حدیث نمبر: 637
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ كَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ بِخَيْلٍ وَلا رِكَابٍ ، فَكَانَتْ أَمْوَالُهُمْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَةٍ ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْخَيْلِ وَالْكُرَاعِ عِدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ .
نوید مجید طیب

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بنی نضیر کے اموال بطور مال فئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئے جس کے لیے مسلمانوں کو گھوڑے دوڑانے یا جنگ نہ کرنی پڑی تو ان کے اموال خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروں کا سالانہ خرچ چلاتے اور جو مال بچ جاتا اس سے جہاد کے لیے گھوڑے اور اسلحہ وغیرہ خرید لیا جاتا ہے۔

وضاحت:
➊ مال فئی وہ مال غنیمت ہے جو بغیر جنگ کے حاصل ہو جائے، وہ مجاہدین میں تقسیم نہیں ہوتا بلکہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہوتا ہے۔ وہ جہاں مناسب سمجھیں خرچ کریں۔
➋ مدینہ طیبہ کے اطراف میں یہودیوں کے تین قبیلے بنو نضیر، بنو قینقاع اور بنو قریظہ آباد تھے، ہجرت مدینہ کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام قبائل سے دفاعی معاہدے کیے تھے، لیکن یہ لوگ ہمیشہ درپردہ سازشیں کرتے رہتے تھے۔
➌ بنو نضیر نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی سازش کی، اس عہد شکنی کی وجہ سے ان پر لشکر کشی کی گئی۔
➍ بنو نضیر کچھ عرصہ قلعوں میں محصور رہے پھر انہوں نے جلا وطنی پر آمادگی ظاہر کی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمایا۔
➎ دوران محاصرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے اموال کو جلایا اور ان کے گھروں کو گرا دیا۔
➏ بنو نضیر کی تباہی و بربادی اور اس مقام سے حاصل ہونے والے مال فئی کی تفصیلات کو سورۂ حشر کی ﴿آیت نمبر 1 تا 6﴾ میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 637
تخریج حدیث صحیح بخاری، الجہاد، باب المجن ومن یترس بترس صاحبہ، رقم: 2904، صحیح مسلم، الجہاد والسیر، باب حکم الفئی رقم: 1757۔