حدیث نمبر: 618
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ فَمَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَنَظَرُوا فِي مَتَاعِهِ فَوَجَدُوا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودٍ لا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ .
نوید مجید طیب

سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر میں تھے کہ قبیلہ اشجع کا ایک آدمی فوت ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی اور فرمایا: ”اپنے ساتھی کی تم نماز جنازہ پڑھ لو“ (بعد میں) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کے سامان میں دیکھا تو اس میں یہود کے مونگوں میں سے کچھ مونگے پائے جو دو درہم کے مساوی بھی نہ تھے۔

وضاحت:
➊ مالِ غنیمت تقسیم سے قبل چھپا لینا کبیرہ گناہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کا جنازہ نہ پڑھایا تاکہ آئندہ لوگوں کے لیے عبرت بنے۔
➋ اہم شخصیات، بڑے علماء اور قوم کے لیڈروں کو مجرموں کے جنازوں میں اہتمام کے ساتھ شریک نہیں ہونا چاہیے۔
➌ ایسے افراد کے جنازے بہر صورت ہوں گے، ان کو بغیر جنازہ پڑھے دفن نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الجهاد / حدیث: 618
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الجهاد، باب فى تعظيم الغلول، رقم: 2710 وقال الالبانی صحیح، سنن ابن ماجه، الجهاد، باب الغلول، رقم: 2848۔