أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلِيَهَا لَيْلا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَرَقَ قَوْمًا لَيْلا لَمْ يُغِرْ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ ، وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا يُصَلُّونَ أَغَارَ عَلَيْهِمْ حِينَ يُصْبِحُ ، قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحْنَا رَكِبَ وَرَكِبَ الْمُسْلِمُونَ وَخَرَجَ أَهْلُ الْقَرْيَةِ وَمَعَهُمْ مَكَاتِلُهُمْ وَمَسَاحِيهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، قَالَ أَنَسٌ : وَإِنِّي لَرَدِيفٌ لأَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّ قَدَمَيَّ لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت خیبر کی طرف گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو کسی قوم تک پہنچتے تو ان پر حملہ نہ کرتے حتی کہ صبح کر لیتے اگر اذان وہاں سُنتے تو حملہ سے رک جاتے اگر وہ نمازی نہ ہوتے تو صبح ہوتے ہی اُن پر حملہ کر دیتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ہم نے صبح کی، مسلمان سوار ہوئے بستی والے باہر نکلے ان کے ساتھ ان کی ٹوکریاں اور کدالیں تھیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم لشکر لے کر آ گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر خیبر برباد ہوا، ہم جب کسی قوم کے میدان میں سر بکف اترتے ہیں تو ڈرائی گئی قوم کی صبح بری ہوتی ہے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار تھا (ابو طلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تھے) تو میرا قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کو چھو رہا تھا۔
➋ دشمن کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر ان پر حملہ آور ہونا بہترین جنگی تدبیر ہے۔
➌ اذان شعائرِ اسلام میں سے ہے جس سے آبادیوں کے مسلمان ہونے کی خبر ملتی ہے۔
➍ سازشی کفار کے خلاف اقدامی جہاد ضروری ہے۔
➎ غزوہ خیبر سات ہجری محرم الحرام میں یہودیوں کے خلاف ہوا۔
➏ میدانِ جہاد میں نعرہ تکبیر کا بھی اثبات ہوا۔
➐ غزوہ خیبر کے غنائم میں ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی بن اخطب بھی تھیں جنہیں اسلام قبول کرنے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد فرما کر ان سے نکاح فرما لیا تھا۔