حدیث نمبر: 558
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ النَّحْرِ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " لا يَذْبَحَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ " ، قَالَ : فَقَامَ خَالِي ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَقْرُومٌ ، وَإِنِّي ذَبَحْتُ نَسِيكَتِي فَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ فَعَلْتَ فَأَعِدْ ذَبْحًا آخَرَ " فَقَالَ : عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ ، فَقَالَ : " هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ وَلَنْ تُجْزِئَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " . قَالَ الشَّافِعِيُّ : قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ : أَظُنُّ أَنَّهَا مَاعِزٌ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَالْعَنَاقُ هِيَ مَاعِزٌ كَمَا قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ ، إِنَّمَا يُقَالُ لِلضَّانِيَةِ : رِخْلٌ . وَقَوْلُهُ : هِيَ خَيْرٌ نَسِيكَتَيْكَ : أَنَّكَ ذَبَحْتَهُمَا تَنْوِي بِهِمَا نَسِيكَتَيْنِ فَلَمَّا قَدَّمْتَ الأُولَى قَبْلَ وَقْتِ الذَّبْحِ كَانَتِ الآخِرَةُ هِيَ النَّسِيكَةُ وَالأُولَى غَيْرَ نَسِيكَةٍ وَإِنْ نَوَيْتَ بِهَا النَّسِيكَةَ . وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " يَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا لَهُ خَاصَّةً وَقَوْلُهُ : عَنَاقُ لَبَنٍ يَعْنِي عَنَاقًا تُقْتَنَى لِلَّبَنِ لا لِلذَّبْحِ .
نوید مجید طیب

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے قربانی والے دن خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا: ”نماز ادا کرنے سے قبل ہرگز قربانی نہ کرنا۔“ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے ماموں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ! آج کے دن گوشت سے جی بھر جاتا ہے۔ میں تو اپنی قربانی کر آیا ہوں جس سے میں نے گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو کھلایا ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تو نے ایسا کر لیا ہے تو اس کی جگہ دوسری قربانی کرو۔“ ماموں کہنے لگے میرے پاس ایک سالہ دودھ پیتی (کھیری) بکری ہے وہ گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہاری بہترین قربانی ہے (اس کی قربانی کرلو) لیکن تمہارے بعد کسی کو ایک سالہ جانور قربانی کرنا کافی نہیں ہوگا۔“ راوی عبدالوہاب کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ وہ بکری کا بچہ تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ عناق کا معنی بکری کی بچی ہے جیسا کہ راوی عبدالوہاب نے کہا، ”ضائیہ کو درخل“ کہا جاتا ہے دو بکریوں سے بہتر کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے دو بکریاں ذبح کی ایک نماز سے پہلے جو قربانی شمار نہ ہوئی جبکہ دوسری نماز کے بعد ذبح کی تو دونوں میں سے بہتر بعد والی ہوئی کیونکہ وہ قربانی شمار ہوئی ہے، تیرے بعد کسی کو کفایت نہ کرے گی کا مطلب ہے یہ اُن کے ساتھ خاص تھی اور دودھ والی بکری سے مراد ہے کہ وہ بکری دودھ کے مقصد کے لیے رکھی تھی نہ کہ ذبح کرنے کے لیے۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 558
تخریج حدیث صحیح مسلم، الأضاحي، باب وقتها، رقم: 1961۔