السنن المأثورة
باب من أعتق شركا له في عبد— حصے کی حد تک غلام آزاد کرنے کا بیان
باب من أعتق شركاً له في عبد باب: حصے کی حد تک غلام آزاد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 555
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أنَّ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَضْحَى فَزَعَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ لِضَحِيَّةٍ أُخْرَى ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : لا أَجِدُ إِلا جَذَعًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلا جَذَعًا فَاذْبَحْهُ " .نوید مجید طیب
بشیر بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے قربانی کرنے سے قبل ہی (یعنی نماز سے پہلے) عید الاضحی کے موقع پر قربانی کر دی تو لوگوں کا خیال ہے رسول اللہ ﷺ نے انہیں دوبارہ قربانی کا حکم دیا جس پر ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میرے پاس تو ایک سال کا جانور ہی بچا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تجھے اور کوئی میسر نہ آئے تو ایک سال کا جانور ہی ذبح کر لے۔“
وضاحت:
➊ قربانی نماز کی ادائیگی کے بعد ہوتی ہے «قبل الصلاة» ذبیحہ عام گوشت کا حکم رکھتا ہے۔
➋ قربانی کے لیے دو دانتا جانور شرط ہے ہاں اگر میسر نہ آئے تو ایک سال کا دنبہ ذبح کر لینا چاہیے میسر نہ آنے کی دو صورتیں ہیں۔
(1) منڈی میں دو دانتا ناپید ہے۔
(2) دو دانتا خریدنے کی طاقت نہیں تو جذعاً ذبح کیا جاسکتا ہے۔
➌ ہر عبادت کے لیے طریقہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ضروری ہے۔
➍ اگر صحابی رضی اللہ عنہ بھی خلاف سنت عمل کرے تو نامقبول ہے۔
➎ جانور کو اللہ کے نام سے ذبح کرنا چاہیے۔
➏ قربانی میں عقیقے کے حصے شامل نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی ایک گائے میں سات عقیقے ہوں گے عقیقہ کے لیے بچے کی طرف سے دو مینڈھے اور بچی کی طرف سے ایک مینڈھا ذبح کرنا چاہیے۔
➐ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ عبد الرحمن بن ابی بکر کے بچے کی طرف سے ایک اونٹ بطور عقیقہ ذبح کریں تو انہوں نے فرمایا: معاذ اللہ!
«ولكن ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم شاتان مكافأتان»
یعنی میں اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں لیکن میں وہ کروں گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ دو بکریاں ایک جیسی لڑکے کی طرف سے ہیں۔ [السنن الکبری للبیھقی: 301/9]
➋ قربانی کے لیے دو دانتا جانور شرط ہے ہاں اگر میسر نہ آئے تو ایک سال کا دنبہ ذبح کر لینا چاہیے میسر نہ آنے کی دو صورتیں ہیں۔
(1) منڈی میں دو دانتا ناپید ہے۔
(2) دو دانتا خریدنے کی طاقت نہیں تو جذعاً ذبح کیا جاسکتا ہے۔
➌ ہر عبادت کے لیے طریقہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ضروری ہے۔
➍ اگر صحابی رضی اللہ عنہ بھی خلاف سنت عمل کرے تو نامقبول ہے۔
➎ جانور کو اللہ کے نام سے ذبح کرنا چاہیے۔
➏ قربانی میں عقیقے کے حصے شامل نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی ایک گائے میں سات عقیقے ہوں گے عقیقہ کے لیے بچے کی طرف سے دو مینڈھے اور بچی کی طرف سے ایک مینڈھا ذبح کرنا چاہیے۔
➐ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ عبد الرحمن بن ابی بکر کے بچے کی طرف سے ایک اونٹ بطور عقیقہ ذبح کریں تو انہوں نے فرمایا: معاذ اللہ!
«ولكن ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم شاتان مكافأتان»
یعنی میں اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں لیکن میں وہ کروں گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ دو بکریاں ایک جیسی لڑکے کی طرف سے ہیں۔ [السنن الکبری للبیھقی: 301/9]