حدیث نمبر: 549
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ أَنْ تُكْسَرَ فَيُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بے شک رسول اللہ ﷺ نے مشکیزے سے منہ لگا کر پینے سے منع فرمایا۔

وضاحت:
➊ ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں مذکورہ الفاظ حدیث میری کتاب میں ہیں جبکہ امام مزنی رحمہ اللہ سے جو میں نے حفظ کیا اس کے الفاظ اس طرح ہیں کہ مشکیزے کے اختناث سے منع فرمایا کہ اسے الٹا کر اس کے منہ سے پیا جائے۔ مسند ابی بکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ کے مطابق ایک آدمی نے مشکیزے سے منہ لگا کر پیا مشکیزے میں سانپ کا بچہ تھا جو اس کے پیٹ میں چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔
➋ اس کی دیگر حکمتیں بھی ہو سکتی ہیں آدمی کا سانس برتن میں چلا جاتا ہے پھر پینے میں بھی دشواری ہوتی ہے، دوسرا آدمی اسی سے پینے میں دلی طور پر کراہت محسوس کرتا ہے، اس لیے تہذیب کا تقاضا یہی ہے کہ گلاس میں ڈال کر پیا جائے جن احادیث میں جواز ہے فتح الباری کے مطابق وہ جواز اس حدیث سے منسوخ متصور ہوگا۔ «والله اعلم»
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 549
تخریج حدیث صحیح بخاری، الاشربة، باب اختناث الاسقية، رقم: 5625؛ صحیح مسلم، الاشربة، باب آداب الطعام والشراب وأحكامهما، رقم: 2023۔