حدیث نمبر: 529
عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ ، فَقَالَ : " إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : لا أَدْرِي بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ ، وَالضَّفِيرُ : الْحَبْلُ .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ سے لونڈی کے متعلق سوال ہوا کہ غیر شادی شدہ اگر زنا کرے تو کیا حکم ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر زنا کرے تو اسے کوڑے مارو اگر پھر زنا کرے تو اسے کوڑے مارو پھر اگر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو پھر فروخت کر دو اگر چہ ایک رسی کے بدلے ہی فروخت ہو۔“ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے رسی کے بدلے فروخت کرنے کا حکم تیسری دفعہ دیا یا چوتھی دفعہ زنا کرنے پر دیا اور «ضَفِير» رسی کو کہتے ہیں۔

وضاحت:
➊ شرعاً بعض احکامات میں غلام اور لونڈی کے لیے تخفیف اور استثناء ہے جن میں سے ایک حکم حدیث بالا میں بیان ہوا۔
➋ غلام اور لونڈی پر رجم نہیں اگرچہ شادی شدہ ہوں جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِؕ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْؕ-بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍۚ-فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍۚ-فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْؕ-وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠﴾ [النساء: 25]
اور تم میں سے جس کسی کو آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی پوری وسعت وطاقت نہ ہو تو وه مسلمان لونڈیوں سے جن کے تم مالک ہو (اپنا نکاح کر لے) اللہ تمہارے اعمال کو بخوبی جاننے واﻻ ہے، تم سب آپس میں ایک ہی تو ہو، اس لئے ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لو، اور قاعده کے مطالق ان کے مہر ان کو دو، وه پاک دامن ہوں نہ کہ علانیہ بدکاری کرنے والیاں، نہ خفیہ آشنائی کرنے والیاں، پس جب یہ لونڈیاں نکاح میں آجائیں پھر اگر وه بے حیائی کا کام کریں تو انہیں آدھی سزا ہے اس سزا سے جو آزاد عورتوں کی ہے۔ کنیزوں سے نکاح کا یہ حکم تم میں سے ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں گناه اور تکلیف کا اندیشہ ہو اور تمہارا ضبط کرنا بہت بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ اور بڑی رحمت واﻻ ہے۔
ان کی سزا آزاد سے نصف ہے جبکہ رجم نصف نہیں ہو سکتا کوڑے نصف ہوں گے اس پر امت کا اجماع ہے۔
➌ غلام و لونڈی شادی شدہ و غیر شادی شدہ پر بھی زنا کی حد نافذ ہوگی۔
➍ غلام یا لونڈی کی جلا وطنی یہی ہے کہ اسے آگے فروخت کر دو تاکہ ماحول تبدیل ہو شاید باز آ جائے یا شادی ہو جائے۔
➎ اس کے رجم میں مالک کا نقصان تھا جبکہ مالک بے قصور ہے اس حکمت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
➏ زنا کرنے والے غلام و لونڈی کو بیچنا جائز ہے۔
➐ بد کردار اور بدفطرت غلام لونڈی اور نوکر کو گھر سے نکال دینا چاہیے۔
➑ غلام و لونڈی پر اس کا مالک حد نافذ کرے گا، ایک دفعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: «ياايها الناس اقيموا على ارقائكم الحد من احصن منهم و من لم يحصن» [صحیح مسلم: 1705]
اے لوگو! اپنے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ غلاموں پر حدود نافذ کرو۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 529
تخریج حدیث صحیح بخاری، البیوع، باب بیع العبد الزانی، رقم: 2154، صحیح مسلم، الحدود، باب رجم الیہود ..... الخ، رقم: 1703