حدیث نمبر: 525
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ ؟ " قَالُوا : نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا ، فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ ، فَقَالُوا : صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ ، فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ ، " فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَجْنَأُ عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ .
نوید مجید طیب

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے یہو د رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اپنا مقدمہ بیان کیا کہ اُن کے ایک آدمی اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم رجم کے بارے میں تورات میں کیا حکم پاتے ہو؟“ وہ کہنے لگے ہم انہیں رسواء کرتے ہیں اور کوڑے مارتے ہیں تو سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو تورات میں بھی رجم کا حکم ہے پھر وہ تورات لائے جسے کھول کر بیٹھ گئے ایک یہودی نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ کر ماقبل اور مابعد کو پڑھ دیا تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: ”اپنا ہاتھ اٹھا“ تو اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا نیچے آیت رجم تھی وہ کہنے لگے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے سچ کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں آیت رجم ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو رجم کیا، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے آدمی کو دیکھا عورت کے اوپر جھکا ہوا تھا اسے پتھروں سے بچاتا تھا۔

وضاحت:
➊ زنا معاشرتی ناسور ہے اس لیے شریعت اسلامیہ نے اس کو حرام قرار دیا اور اس کی سزا سخت ترین مقرر کی۔
➋ کتمان علم اہل کتاب کا شیوہ ہے۔
➌ اہل حق، اہل اسلام نے ہر دور میں یہود کی سازشوں کا بروقت تدارک کیا اور انہیں واضح فرمایا۔
➍ سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں پہلے یہودی عالم تھے بعد ازاں اسلام قبول کیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں خوب علمی مقام رکھتے ہیں۔
➎ زنا کی جو سزا تورات میں ہے وہی اسلام میں ہے۔
➏ شادی شدہ زانی کو رجم اور غیر شادی شدہ کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہوگی۔
➐ زنا سابقہ شریعتوں میں بھی جرم تھا اور ہماری شریعت میں بھی جرم ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 525
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحدود، باب احکام اھل الذمة واحصانھم اذا الخ، رقم: 6841، صحیح مسلم، الحدود، باب یرجم الیہود اھل الذمة فی الزنی، رقم: 1699