السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 517
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ " ، قَالُوا : وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ " ، قَالَهَا ثَلاثًا .نوید مجید طیب
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہتھیا یا اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی اور جہنم واجب کر دی ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاہیے پیلو کے درخت کی شاخ ہو“ یہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا۔
وضاحت:
➊ اپنے دعوئی میں قسم کھانا اگر قسم کچی ہو تو جائز ہے جھوٹی ہو تو کبیرہ گناہ ہے اگر چہ معمولی شے کے حصول کے لیے ہو۔
➋ منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے تو اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے مقدس مقامات پر قسم کھانا اور بڑا گناہ ہے اسلامی عدالتیں منبر پر ہی لگتی تھیں اس لیے «عند المنبر» کا لفظ آیا ہے۔
➌ مقدس مقام یا ایام کے دوران گناہ کی سنگینی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
➍ بہت سے لوگ عدالت میں جھوٹ بولنا ضروری سمجھتے ہیں حالانکہ یہ کبیرہ گناہ ہے عدالت کے فیصلہ کے باوجود ناحق مال جائز نہیں ہو جاتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ظاہری دلائل کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرتا ہوں جس نے چرب زبانی سے اپنے حق میں فیصلہ کروالیا تو وہ یہ سمجھے اس نے جہنم کا ٹکڑا اپنے نام الاٹ کرایا چاہے تو لے لے چاہے تو چھوڑ دے۔ [بخاری: 1713]
➎ راوی حدیث، ابو امامہ بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہ ہیں اس سے مراد مشہور صحابی ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نہیں ہیں۔
➋ منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے تو اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے مقدس مقامات پر قسم کھانا اور بڑا گناہ ہے اسلامی عدالتیں منبر پر ہی لگتی تھیں اس لیے «عند المنبر» کا لفظ آیا ہے۔
➌ مقدس مقام یا ایام کے دوران گناہ کی سنگینی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
➍ بہت سے لوگ عدالت میں جھوٹ بولنا ضروری سمجھتے ہیں حالانکہ یہ کبیرہ گناہ ہے عدالت کے فیصلہ کے باوجود ناحق مال جائز نہیں ہو جاتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ظاہری دلائل کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرتا ہوں جس نے چرب زبانی سے اپنے حق میں فیصلہ کروالیا تو وہ یہ سمجھے اس نے جہنم کا ٹکڑا اپنے نام الاٹ کرایا چاہے تو لے لے چاہے تو چھوڑ دے۔ [بخاری: 1713]
➎ راوی حدیث، ابو امامہ بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہ ہیں اس سے مراد مشہور صحابی ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نہیں ہیں۔