السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 513
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " يَقْرَءُونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ " .نوید مجید طیب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قرآن کریم میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے پڑھتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض کی ادائیگی کا فیصلہ فرمایا۔
وضاحت:
➊ احکام میراث کے نزول سے قبل وصیت کرنا فرض تھا ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ﴾ [البقرة: 180]
تم پر فرض کر دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے، اگر وہ مال چھوڑے جا رہا ہو تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے معروف طریقے سے وصیت کرے، یہ متقیوں پر لازم ہے۔
احکامِ وراثت کے نزول کے بعد وارث کے حق میں وصیت ختم ہو گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود وصیت کرتے ہوئے ورثا کا حصہ متعین فرمایا: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾ [النساء: 11]
اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے، پھر اگر (دو یا) دو سے زیادہ عورتیں ہی ہوں تو ان کے لیے ترکے میں دو تہائی حصہ ہے اور اگر ایک ہی (لڑکی) ہو تو اس کے لیے آدھا (حصہ) ہے، اور اس (مرنے والے) کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لیے ترکے میں چھٹا حصہ ہے، اگر اس کی اولاد ہو۔ اور اگر اس کی اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے۔ اور اگر اس (مرنے والے) کے (ایک سے زیادہ) بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ (یہ تقسیم) اس کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہو گی تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع کے لحاظ سے تم سے زیادہ قریب ہے۔ (یہ تقسیم) اللہ کی طرف سے مقرر ہے، بے شک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔
﴿وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوا أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ﴾ [النساء: 12]
اور تمھاری بیویوں کے ترکے میں تمھارا آدھا حصہ ہے، اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکے میں تمھارا چوتھا حصہ ہے۔ (یہ تقسیم) ان کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہوگی اور اگر تمھاری اولاد نہ ہو تو تمھارے ترکے میں تمھاری بیویوں کا چوتھا حصہ ہے، پھر اگر تمھاری اولاد ہو تو تمھارے ترکے میں ان کا آٹھواں حصہ ہے۔ (یہ تقسیم) تمھاری وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہوگی اور اگر وہ آدمی جس کا ورثہ تقسیم کیا جارہا ہو، اس کا بیٹا ہو نہ باپ، یا ایسی ہی عورت ہو۔ اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ پھر اگر ان کی تعداد اس سے زیادہ ہو تو وہ سب ایک تہائی حصے میں شریک ہوں گے۔ (یہ تقسیم) اس کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد (ہوگی) جبکہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے والا نہ ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے تاکید ہے، اور اللہ خوب جاننے والا، بڑے حوصلے والا ہے۔
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ [النساء: 13]
یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا، اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
﴿وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾ [النساء: 14]
اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے آگے نکلے تو اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن اللہ أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث» [نسائی: 3671]
یقیناً اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے چنانچہ وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ہے۔
➋ وصیت اگر غیر شرعی ہے تو اس پر عمل نہیں ہوگا اور اس کی اصلاح کرنا درست ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ [البقرة: 182]
پھر اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے حق تلفی یا کسی گناہ کا ڈر ہو اور وہ ان میں صلح کروا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
➌ موت کا پتہ نہیں اس لیے بعد کے معاملات طے شدہ ہونے چاہیں، وصیت تحریری ہو اور اس پر گواہ ہوں تو بعد میں جھگڑا نہیں ہوتا اگر اس کو عدالت دیوانی میں رجسٹر کروا دیا جائے تو جعلی فرضی وصیت ناموں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
➍ وصیت واجب نہیں الا یہ کہ کسی کا قرض دینا ہو یا یتیم پوتوں کے لیے کچھ وصیت کر جائے تو اچھا ہے کیونکہ وہ شرعی وارث نہیں اور پھر وہ ایسے کمزور ہوتے ہیں جن کا چچے، تائے اور دیگر وارث خیال نہیں رکھتے۔
➎ دو راتوں اور بعض روایات میں تین راتوں کا ذکر سے مراد تحدید نہیں بلکہ جلدی کی ترغیب ہے واللہ اعلم۔
➏ یہ عام وصیت کی بات ہے مگر قرض، امانت، حقوق تو لازماً لکھ کر رکھنے چاہئیں اور اولاد کو اس سے آگاہ بھی رکھنا چاہیے۔ لکھی ہوئی وصیت میں انسان خود تبدیلی بھی کر سکتا ہے لیکن وارثوں کا تبدیل کرنا حرام ہے الا یہ کہ وصیت خلاف شرع ہو تو اس کی تبدیلی لازمی ہے۔
➐ میت کے مال میں پہلا حق کفن دفن کا خرچہ، پھر قرض، پھر وصیت اگر کوئی ہو تو اس کے بعد ترکہ میت تقسیم کیا جائے گا۔ جیسا کہ سورہ النساء میں تقسیم وراثت کے ضابطوں میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔
تم پر فرض کر دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے، اگر وہ مال چھوڑے جا رہا ہو تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے معروف طریقے سے وصیت کرے، یہ متقیوں پر لازم ہے۔
احکامِ وراثت کے نزول کے بعد وارث کے حق میں وصیت ختم ہو گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود وصیت کرتے ہوئے ورثا کا حصہ متعین فرمایا: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾ [النساء: 11]
اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے، پھر اگر (دو یا) دو سے زیادہ عورتیں ہی ہوں تو ان کے لیے ترکے میں دو تہائی حصہ ہے اور اگر ایک ہی (لڑکی) ہو تو اس کے لیے آدھا (حصہ) ہے، اور اس (مرنے والے) کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لیے ترکے میں چھٹا حصہ ہے، اگر اس کی اولاد ہو۔ اور اگر اس کی اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے۔ اور اگر اس (مرنے والے) کے (ایک سے زیادہ) بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ (یہ تقسیم) اس کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہو گی تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع کے لحاظ سے تم سے زیادہ قریب ہے۔ (یہ تقسیم) اللہ کی طرف سے مقرر ہے، بے شک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔
﴿وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوا أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ﴾ [النساء: 12]
اور تمھاری بیویوں کے ترکے میں تمھارا آدھا حصہ ہے، اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکے میں تمھارا چوتھا حصہ ہے۔ (یہ تقسیم) ان کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہوگی اور اگر تمھاری اولاد نہ ہو تو تمھارے ترکے میں تمھاری بیویوں کا چوتھا حصہ ہے، پھر اگر تمھاری اولاد ہو تو تمھارے ترکے میں ان کا آٹھواں حصہ ہے۔ (یہ تقسیم) تمھاری وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد ہوگی اور اگر وہ آدمی جس کا ورثہ تقسیم کیا جارہا ہو، اس کا بیٹا ہو نہ باپ، یا ایسی ہی عورت ہو۔ اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ پھر اگر ان کی تعداد اس سے زیادہ ہو تو وہ سب ایک تہائی حصے میں شریک ہوں گے۔ (یہ تقسیم) اس کی وصیت پر عمل یا قرض ادا کرنے کے بعد (ہوگی) جبکہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے والا نہ ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے تاکید ہے، اور اللہ خوب جاننے والا، بڑے حوصلے والا ہے۔
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ [النساء: 13]
یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا، اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
﴿وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾ [النساء: 14]
اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے آگے نکلے تو اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن اللہ أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث» [نسائی: 3671]
یقیناً اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے چنانچہ وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ہے۔
➋ وصیت اگر غیر شرعی ہے تو اس پر عمل نہیں ہوگا اور اس کی اصلاح کرنا درست ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ [البقرة: 182]
پھر اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے حق تلفی یا کسی گناہ کا ڈر ہو اور وہ ان میں صلح کروا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
➌ موت کا پتہ نہیں اس لیے بعد کے معاملات طے شدہ ہونے چاہیں، وصیت تحریری ہو اور اس پر گواہ ہوں تو بعد میں جھگڑا نہیں ہوتا اگر اس کو عدالت دیوانی میں رجسٹر کروا دیا جائے تو جعلی فرضی وصیت ناموں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
➍ وصیت واجب نہیں الا یہ کہ کسی کا قرض دینا ہو یا یتیم پوتوں کے لیے کچھ وصیت کر جائے تو اچھا ہے کیونکہ وہ شرعی وارث نہیں اور پھر وہ ایسے کمزور ہوتے ہیں جن کا چچے، تائے اور دیگر وارث خیال نہیں رکھتے۔
➎ دو راتوں اور بعض روایات میں تین راتوں کا ذکر سے مراد تحدید نہیں بلکہ جلدی کی ترغیب ہے واللہ اعلم۔
➏ یہ عام وصیت کی بات ہے مگر قرض، امانت، حقوق تو لازماً لکھ کر رکھنے چاہئیں اور اولاد کو اس سے آگاہ بھی رکھنا چاہیے۔ لکھی ہوئی وصیت میں انسان خود تبدیلی بھی کر سکتا ہے لیکن وارثوں کا تبدیل کرنا حرام ہے الا یہ کہ وصیت خلاف شرع ہو تو اس کی تبدیلی لازمی ہے۔
➐ میت کے مال میں پہلا حق کفن دفن کا خرچہ، پھر قرض، پھر وصیت اگر کوئی ہو تو اس کے بعد ترکہ میت تقسیم کیا جائے گا۔ جیسا کہ سورہ النساء میں تقسیم وراثت کے ضابطوں میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔