السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 501
عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَمْنَعْ فَضْلَ الْمَاءِ لِتَمْنَعَ بِهِ الْكَلأَ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھاس محفوظ رکھنے کی غرض سے زائد پانی سے مت روکو۔“
وضاحت:
➊ اس سے مراد یہ ہے کہ ضرورت سے زائد پانی لوگوں کو استعمال کرنے دینا چاہیے کیونکہ پانی اصلا اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے بعض لوگ اس غرض سے دوسرے چرواہوں کو اپنے کنویں سے پانی نہیں پینے دیتے تھے کہ جب پانی نہیں ملے گا تو پھر اس کنویں کے قرب و جوار کوئی نہیں آئے گا لہذا گھاس اس علاقے میں محفوظ رہے گی جو میرے مویشی کھائیں گے تو اس غرض سے پانی روکنے سے منع فرمایا ہے۔
➋ پانی جاندار کی بنیادی ضرورت ہے اس پر بلا وجہ کی روک رکاوٹ کو شریعت نے ناپسند کیا ہے۔
➌ ایک مسلمان کو وسیع الظرف ہونا چاہیے انتہائی معمولی اشیاء کے لیے بلا وجہ کی منصوبہ بندیاں نا مناسب ہیں۔
➋ پانی جاندار کی بنیادی ضرورت ہے اس پر بلا وجہ کی روک رکاوٹ کو شریعت نے ناپسند کیا ہے۔
➌ ایک مسلمان کو وسیع الظرف ہونا چاہیے انتہائی معمولی اشیاء کے لیے بلا وجہ کی منصوبہ بندیاں نا مناسب ہیں۔