السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 495
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، يُحَدِّثَانِهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلامًا كَانَ لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا ؟ " فَقَالَ : لا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَرْجِعْهُ " .نوید مجید طیب
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اُن کے والد ان کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر گئے اور فرمایا: میں نے اپنے اس بیٹے کو اپنا غلام تحفہ میں دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تو نے اس طرح کا غلام ہر اولاد کو دیا ہے؟“ تو والد نے کہا نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اسے بھی واپس لے لو۔“
وضاحت:
➊ ایک ہے اولاد پر نفقہ اور دوسرا ہے اولاد کو تحفہ، نفقہ میں برابری ضروری نہیں مثلاً بڑے بیٹے کو دو روٹیاں دیتا ہے تو ضروری نہیں چھوٹے کو بھی دو روٹیاں زبردستی کھلائے، بڑے بیٹے کو کالج فیس ایک ہزار روپے دی تو ضروری نہیں دودھ پیتے کو بھی ہزار روپے دے یہ نفقہ اور اخراجاتِ تعلیم کے ہیں، جن میں برابری مشکل ہے۔ جبکہ تحفہ میں برابری ضروری ہے اور خصوصاً ایسا تحفہ جس نے بعد از موت میراث میں تقسیم ہونا ہے وہ اولاد میں سے کسی ایک کے لیے مخصوص نہیں کر سکتا۔
➋ امام احمد کے نزدیک اولاد کے درمیان ہبہ میں عدل کرنا واجب ہے ایک کو زیادہ دینا حرام ہے اس موقف کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فلا تشهدني إذا فإني لا أشهد على جور»
"پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔"
اس تحفہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم قرار دیا اور ظلم حرام ہے لہذا امام احمد کا ہی مؤقف درست ہے کہ ایک وارث کو تحفہ دینا اور دوسروں کو محروم کر دینا درست نہیں ہے۔
➋ امام احمد کے نزدیک اولاد کے درمیان ہبہ میں عدل کرنا واجب ہے ایک کو زیادہ دینا حرام ہے اس موقف کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فلا تشهدني إذا فإني لا أشهد على جور»
"پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔"
اس تحفہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم قرار دیا اور ظلم حرام ہے لہذا امام احمد کا ہی مؤقف درست ہے کہ ایک وارث کو تحفہ دینا اور دوسروں کو محروم کر دینا درست نہیں ہے۔