السنن المأثورة
باب ما جاء في النداء في السفر— سفر میں اذان کا بیان
باب ما جاء في النداء في السفر باب: سفر میں اذان کا بیان
حدیث نمبر: 46
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ : أَنْصِتْ , فَقَدْ لَغَوْتَ " . يُرِيدُ بِذَلِكَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نے ساتھی کو کہا خاموش رہو تو تو نے بھی لغو بات۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے مراد دورانِ خطبہ جمعہ بات کرنا ہے۔“
وضاحت:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دورانِ خطبہ کلام درست نہیں خاموش رہنا واجب ہے۔
➋ امام خاموش کرا سکتا ہے امام کو دوران خطبہ مقتدیوں سے بات کی اجازت ہے جیسا کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ سے متعلق بات پیچھے گذر چکی ہے۔ [حدیث نمبر: 18]
➌ خطبہ جمعہ کے دوران ایک بندہ آیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! بارش کے لیے دعا فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ [صحیح بخاری: 1013]
اس سے پتہ چلتا ہے کہ مقتدی بھی بقدر ضرورت امام سے بات کر سکتا ہے۔
➍ خطبہ جمعہ ایک ہفتے بعد آتا ہے جس میں دین سیکھنے کا موقع ملتا ہے اگر اس میں بھی بے جا حرکات کر کے ٹائم ضائع کر دیا جائے تو اس سے بڑی جہالت اور خسارہ کیا ہوسکتا ہے۔
➎ اس حدیث سے دین کے نظم و ضبط کا بھی پتہ چلتا ہے کہ مساجد کا انتظام امام کے ہاتھ میں دیا تاکہ ہر چندہ دینے والا اللہ کو چندہ دے کر رعب لوگوں پر نہ جمائے۔
➏ حدیث سے امام و خطیب کی عظمت بھی واضح ہوتی ہے کہ جب وہ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہا ہو تو اس کے بولنے کے دوران کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہے۔
➐ اسی طرح کنکریوں یا صف کے تنکوں سے کھیلنا بھی لغو قرار دیا گیا ہے جس سے ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔
➑ ہر وہ عمل جو خطبہ کے استماع اور انہماک میں خلل ڈالے وہ دوران خطبہ جمعہ ممنوع ہے۔
➒ مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ کے دوران میں نے ایک طالب علم کو کانوں سے ہیڈ فون لگائے دیکھا نماز کے بعد میں نے اس سے پوچھا آپ نے خطبہ نہیں سنا؟ اس نے کہا میں آن لائن حرم مکی میں الشیخ سدیس یا شریم کا خطبہ جمعہ سن رہا تھا۔ اس طرح کی حرکات بھی نہیں کرنی چاہئیں، فطری دین میں فطری چیزوں پر ہی اکتفاء کرنا چاہیے۔
➋ امام خاموش کرا سکتا ہے امام کو دوران خطبہ مقتدیوں سے بات کی اجازت ہے جیسا کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ سے متعلق بات پیچھے گذر چکی ہے۔ [حدیث نمبر: 18]
➌ خطبہ جمعہ کے دوران ایک بندہ آیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! بارش کے لیے دعا فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ [صحیح بخاری: 1013]
اس سے پتہ چلتا ہے کہ مقتدی بھی بقدر ضرورت امام سے بات کر سکتا ہے۔
➍ خطبہ جمعہ ایک ہفتے بعد آتا ہے جس میں دین سیکھنے کا موقع ملتا ہے اگر اس میں بھی بے جا حرکات کر کے ٹائم ضائع کر دیا جائے تو اس سے بڑی جہالت اور خسارہ کیا ہوسکتا ہے۔
➎ اس حدیث سے دین کے نظم و ضبط کا بھی پتہ چلتا ہے کہ مساجد کا انتظام امام کے ہاتھ میں دیا تاکہ ہر چندہ دینے والا اللہ کو چندہ دے کر رعب لوگوں پر نہ جمائے۔
➏ حدیث سے امام و خطیب کی عظمت بھی واضح ہوتی ہے کہ جب وہ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہا ہو تو اس کے بولنے کے دوران کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہے۔
➐ اسی طرح کنکریوں یا صف کے تنکوں سے کھیلنا بھی لغو قرار دیا گیا ہے جس سے ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔
➑ ہر وہ عمل جو خطبہ کے استماع اور انہماک میں خلل ڈالے وہ دوران خطبہ جمعہ ممنوع ہے۔
➒ مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ کے دوران میں نے ایک طالب علم کو کانوں سے ہیڈ فون لگائے دیکھا نماز کے بعد میں نے اس سے پوچھا آپ نے خطبہ نہیں سنا؟ اس نے کہا میں آن لائن حرم مکی میں الشیخ سدیس یا شریم کا خطبہ جمعہ سن رہا تھا۔ اس طرح کی حرکات بھی نہیں کرنی چاہئیں، فطری دین میں فطری چیزوں پر ہی اکتفاء کرنا چاہیے۔