السنن المأثورة
باب عمارة الأرضين— زمینوں کی آبادکاری کا بیان
باب عمارة الأرضين باب: زمینوں کی آبادکاری کا بیان
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ ، فَقُلْتُ لَهُ : الصَّلاةَ ، فَقَالَ : " الصَّلاةُ أَمَامَكَ " ، فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا .سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ عرفات سے لوٹے، جب گھاٹی سے گزرے تو سواری سے اترے قضائے حاجت سے فارغ ہوئے پھر وضو کیا اور خوب اچھی طرح نہیں کیا تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! نماز پڑھنی ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز تمہارے آگے مزدلفہ میں ہے۔“ پھر سوار ہو گئے جب مزدلفہ آئے تو سواری سے اترے تب اچھی طرح وضو کیا پھر اقامت کہی گئی تو مغرب پڑھائی پھر ہر بندے نے اپنی جگہ اونٹ بٹھایا پھر نماز عشاء کی جماعت کھڑی کی گئی اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (سنت و نفل) نہیں پڑھی۔