السنن المأثورة
باب عمارة الأرضين— زمینوں کی آبادکاری کا بیان
باب عمارة الأرضين باب: زمینوں کی آبادکاری کا بیان
عَنْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الأَزْرَقِيِّ الْغَسَّانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ ، قَالَ : ضَرَبَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ بِرِجْلِهِ عَلَى بَابِ دَارِهِ ، فَقَالَ : سَنَامُ الأَرْضِ إِنَّ لَهَا سَنَامًا زَعَمَ ابْنُ فَرْقَدٍ السُّلَمِيُّ أَنِّي لا أَعْرِفُ حَقِّي مِنْ حَقِّهِ ، لِي مَا اسْوَدَّ مِنَ الْمَرْوَةِ وَلَهُ مَا ابْيَضَّ مِنْهَا ، أَوْ لِي مَا ابْيَضَّ مِنَ الْمَرْوَةِ وَلَهُ مَا اسْوَدَّ مِنْهَا الشَّكُّ مِنَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ وَلِي مَا بَيْنَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ إِلَى تُجْنَى فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ : " كَذَبَ لَيْسَ لأَحَدٍ إِلا مَا حَاطَتْ بِهِ جِدْرَانُهُ " . قَالَ لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : إِذَا عَلِمَ صَاحِبَ الشُّفْعَةِ فَأَكْثَرُ مَا يَجُوزُ لَهُ طَلَبُ الشُّفْعَةِ فِي ثَلاثَةِ أَيَّامٍ فَإِذَا جَاوَزَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ لَمْ يَجُزْ طَلَبُهُ ، وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ مِنِّي وَلَيْسَ بِأَصْلٍ .علقمہ بن نضلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوسفیان بن حرب نے پاؤں سے میرے دروازے کو مارا اور کہنے لگے زمین کی چوٹی اس کے لیے چوٹی ہے ابن فرقد سلمی کا خیال ہے کہ میں اپنی زمین کی حد بندی اس کی حد بندی سے نہیں پہچان سکتا، مروہ پہاڑی کا کالا حصہ میرا ہے، اس کا سفید ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے شک کیا یا کہا کہ مروہ پہاڑی کا سفید حصہ میرا ہے کالا اُس کا ہے میں جہاں کھڑا ہوں ادھر سے ادھر تک میرا ہے تو عمر رضی اللہ عنہ (خلیفہ وقت) کو جب یہ دعویٰ بتایا گیا تو انہوں نے آرڈر پاس کیا کہ ”جھوٹ کہتا ہے ہر ایک کا حصہ اس کی دیواروں کے اندر ہے۔“ امام مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ شفعہ کرنے والے کو علم کے بعد تین ایام کے اندر اندر شفعہ کا دعویٰ دائر کرنا ہے تین دن کے بعد اس کی درخواست زیر غور نہیں لائی جائے گی، یہ میرا اجتہاد استحسان ہے کوئی حدیث نہیں۔