السنن المأثورة
باب تفسير الفرعة والعتيرة— فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
باب تفسير الفرعة والعتيرة باب: فرعہ اور عتیرہ کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 414
سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ عَلِيٍّ وَعُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ .نوید مجید طیب
حسن بن ابوحسن رحمہ اللہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے یہی موقف نقل کیا ہے۔
وضاحت:
➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ [البقرہ: 229]
طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے، پھر یا تو (عورت کو) دستور کے مطابق روک لیا جائے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دیا جائے اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم انہیں جو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لو الا یہ کہ دونوں کو ڈر ہو کہ وہ اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے۔ پس اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ عورت فدیے میں وہ مال دے کر خلع حاصل کرے۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں، سو تم ان سے آگے نہ بڑھو، اور جو لوگ اللہ کی حدوں سے تجاوز کرتے ہیں، وہی ظالم ہیں۔
➋ نکاح کے بعد مرد کو دو مرتبہ وقفہ وقفہ سے طلاق دینے اور پھر رجوع کرنے کا حق حاصل ہے، تیسری طلاق کے بعد خاوند کے پاس حق رجعت نہیں رہتا، عدت کے بعد طلاق مغلظہ بائنہ واقع ہو جاتی ہے۔
➌ مطلقہ کی عدت تین حیض ہے اس دوران رجعی طلاق کی صورت میں خاوند دورانِ عدت بلا نکاح اور انقضاء عدت کے بعد تجدید نکاح سے صلح و رجوع کر سکتا ہے۔
طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے، پھر یا تو (عورت کو) دستور کے مطابق روک لیا جائے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دیا جائے اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم انہیں جو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لو الا یہ کہ دونوں کو ڈر ہو کہ وہ اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے۔ پس اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ عورت فدیے میں وہ مال دے کر خلع حاصل کرے۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں، سو تم ان سے آگے نہ بڑھو، اور جو لوگ اللہ کی حدوں سے تجاوز کرتے ہیں، وہی ظالم ہیں۔
➋ نکاح کے بعد مرد کو دو مرتبہ وقفہ وقفہ سے طلاق دینے اور پھر رجوع کرنے کا حق حاصل ہے، تیسری طلاق کے بعد خاوند کے پاس حق رجعت نہیں رہتا، عدت کے بعد طلاق مغلظہ بائنہ واقع ہو جاتی ہے۔
➌ مطلقہ کی عدت تین حیض ہے اس دوران رجعی طلاق کی صورت میں خاوند دورانِ عدت بلا نکاح اور انقضاء عدت کے بعد تجدید نکاح سے صلح و رجوع کر سکتا ہے۔