السنن المأثورة
باب ما جاء في النداء في السفر— سفر میں اذان کا بیان
باب ما جاء في النداء في السفر باب: سفر میں اذان کا بیان
حدیث نمبر: 40
وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ عِيسَى بْنَ عُمَرَ ، أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ : إِنِّي لَعِنْدَ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ , فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ مُؤَذِّنُهُ , حَتَّى إِذَا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ قَالَ : " لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ " , وَلَمَا قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، قَالَ : " لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ " , ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ , ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ .نوید مجید طیب
سیدنا علقمہ بن وقاص رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اُن کے مؤذن نے اذان کہی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اسی طرح کہتے تھے جس طرح مؤذن نے کہا حتی کہ جب مؤذن نے «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ»، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کہا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہا پھر باقی کلمات اسی طرح اداء کیے جیسے مؤذن نے کہے پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کہتے سنا تھا۔“
وضاحت:
➊ شریعت اسلامیہ نے اذان کا جواب دینے کی تاکید کی ہے لہذا اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
➋ اذان شعائر اسلام میں سے ہے یہ مسلم معاشرے کی پہچان ہے۔ مسلم آبادی کو اس کا ہر صورت اہتمام کرنا چاہیے۔
➌ «حى على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کی آواز سن کر «لَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہنا چاہیے۔ جس کا مطلب ہے "گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا اللہ تعالی کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔"
➍ فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کی جگہ یہی الفاظ دوہرائے جائیں گے۔
➎ اذان کا جواب دینے کے بعد درود ابراہیمی پڑھا جائے گا پھر دعائے وسیلہ پڑھی جائے گی جس موحد نے یہ کام ہمیشگی کے ساتھ کیا اس کے لیے شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم لازم ہو جائے گی۔[صحیح مسلم: 384]
➏ اذان کے بعد «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله، رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» پڑھنے والے کے لیے گناہوں کی بخشش کا پروانہ جاری ہوتا ہے۔ [صحیح مسلم: 386]
➐ دعاء وسیلہ میں مسنون الفاظ پر ہی اکتفاء کرنا چاہیے «والدرجة الرفيعه» کا اضافہ خود ساختہ ہے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
➑ ﴿وإنك لا تخلف الميعاد﴾ سنن بیہقی میں الفاظ آئے ہیں لیکن شاذ اور سنداً نا قابل حجت ہیں لہذا یہ الفاظ بھی نہیں کہنے چاہئیں صرف دعا کے وہی الفاظ پڑھنے چاہئیں جو صحیح سند کے ساتھ حدیث میں موجود ہیں۔
➒ اذان کا جواب ساتھ ساتھ دینا چاہیے بعض علماء کا کہنا ہے کہ اگر کسی عذر کے باعث بر وقت جواب نہیں دیا تو اذان کے آخر میں جواب دے کر دعا پڑھ لی جائے۔ ہمارے استاذ محترم شیخ الحدیث مولانا محمد اکرم جمیل رحمہ اللہ ایک دفعہ ہمیں درس دے رہے تھے اس دوران اذان ہونے لگ گئی انہوں نے اذان ختم ہونے اور درس مکمل کرنے پر پوری اذان کا جواب دیا اور دعائیں پڑھیں۔ بہتر و افضل یہی ہے کہ بروقت جواب دیا جائے۔ (واللہ اعلم!)
➓ حالت حیض، جنابت، بے وضو ہونا اذان کا جواب دینے میں مانع نہ ہے۔
➋ اذان شعائر اسلام میں سے ہے یہ مسلم معاشرے کی پہچان ہے۔ مسلم آبادی کو اس کا ہر صورت اہتمام کرنا چاہیے۔
➌ «حى على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کی آواز سن کر «لَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہنا چاہیے۔ جس کا مطلب ہے "گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا اللہ تعالی کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔"
➍ فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کی جگہ یہی الفاظ دوہرائے جائیں گے۔
➎ اذان کا جواب دینے کے بعد درود ابراہیمی پڑھا جائے گا پھر دعائے وسیلہ پڑھی جائے گی جس موحد نے یہ کام ہمیشگی کے ساتھ کیا اس کے لیے شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم لازم ہو جائے گی۔[صحیح مسلم: 384]
➏ اذان کے بعد «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله، رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» پڑھنے والے کے لیے گناہوں کی بخشش کا پروانہ جاری ہوتا ہے۔ [صحیح مسلم: 386]
➐ دعاء وسیلہ میں مسنون الفاظ پر ہی اکتفاء کرنا چاہیے «والدرجة الرفيعه» کا اضافہ خود ساختہ ہے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
➑ ﴿وإنك لا تخلف الميعاد﴾ سنن بیہقی میں الفاظ آئے ہیں لیکن شاذ اور سنداً نا قابل حجت ہیں لہذا یہ الفاظ بھی نہیں کہنے چاہئیں صرف دعا کے وہی الفاظ پڑھنے چاہئیں جو صحیح سند کے ساتھ حدیث میں موجود ہیں۔
➒ اذان کا جواب ساتھ ساتھ دینا چاہیے بعض علماء کا کہنا ہے کہ اگر کسی عذر کے باعث بر وقت جواب نہیں دیا تو اذان کے آخر میں جواب دے کر دعا پڑھ لی جائے۔ ہمارے استاذ محترم شیخ الحدیث مولانا محمد اکرم جمیل رحمہ اللہ ایک دفعہ ہمیں درس دے رہے تھے اس دوران اذان ہونے لگ گئی انہوں نے اذان ختم ہونے اور درس مکمل کرنے پر پوری اذان کا جواب دیا اور دعائیں پڑھیں۔ بہتر و افضل یہی ہے کہ بروقت جواب دیا جائے۔ (واللہ اعلم!)
➓ حالت حیض، جنابت، بے وضو ہونا اذان کا جواب دینے میں مانع نہ ہے۔