حدیث نمبر: 394
وَسَمِعْتُ وَسَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 24 قَالَ : " سَبَايَا كَانَ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ قَبْلَ أَنْ يُسْبَيْنَ فَأُحْلِلْنَ " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ اس فرمان باری ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء : 24] ”اور (حرام کی گئیں ہیں) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو جنگ میں تمہاری لونڈیاں ہو جائیں۔“ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ عورتیں شادی شدہ تھیں جنگ میں قید ہونے سے قبل ان کی خاوند موجود تھے لیکن جب لونڈیاں بنی تو مسلمانوں کے لیے (استبرائے رحم کے بعد) نکاح یا جماع کرنا حلال ہے۔

وضاحت:
➊ وہ شادی شدہ عورتیں جن کے شوہر ہوں ان سے نکاح حرام ہے حتی کہ ان کے خاوند انہیں چھوڑ دیں یا وہ عورتیں بیوہ ہو جائیں۔
➋ جنگ کی صورت میں دار الحرب سے جو عورتیں قیدی بن کر آئیں تو اموال غنیمت کی تقسیم کے بعد جن کے حصہ میں آئیں گی ان کے لیے استبراء کے بعد ان سے صحبت جائز ہے خواہ پیچھے ان کے خاوند موجود ہی کیوں نہ ہوں۔
«استبراء» یہ ہے کہ عورت ایک حیض سے پاک ہو جائے یا اگر حاملہ ہے تو وضع حمل ہو جائے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب أيام التشريق / حدیث: 394
تخریج حدیث السنن الكبرى للبيهقي : 167/7، تفسير الطبري : 158,155/8۔