حدیث نمبر: 38
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ مُنَادِيَهُ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ أَوِ اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ ذَاتِ رِيحٍ : " أَلا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .
نوید مجید طیب

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش والی رات یا سرد آندھی والی رات مؤذن کو حکم فرماتے کہ اعلان کرے «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» خبر دار لوگو! گھروں میں ہی نماز پڑھ لو۔

وضاحت:
➊ بارش سردی کی وجہ سے باجماعت نماز سے رخصت حاصل ہے، آئمہ محدثین امام ابو داؤد رحمہ اللہ، امام نسائی رحمہ اللہ وغیرہ نے «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» کے الفاظ سے یہی استدلال کیا ہے، بارش میں نمازیں جمع کرانے کی بجائے یہ اعلان بھی کیا جا سکتا ہے کہ گھر میں ہی ادا کر لو۔
➋ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مقام ضجنان جو ایک پہاڑی کا نام ہے مکہ سے ایک منزل دور ہے اس مقام پر اذان دے کر یہ حدیث بیان کی۔ [صحیح بخاری: 632]
«أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ» کے الفاظ «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کی جگہ دو دو دفعہ پڑھے جا سکتے ہیں یا اذان کے بعد ان الفاظ سے اعلان کیا جا سکتا ہے جیسا کہ حدیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في النداء في السفر / حدیث: 38
تخریج حدیث سنن ابن ماجه، اقامة الصلاة، باب الجماعة في الليلة المطيرة، رقم: 937 وقال الالبانى: صحيح؛ مسند الحمیدی : 307,306/2، رقم : 700؛ سنن ابی داؤد، الصلاة، باب التخلف عن الجماعة ، رقم : 1060۔