حدیث نمبر: 377
عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : مَا كَانَ أَبُوكَ يَقُولُ إِذَا رَكِبَ الدَّابَّةَ ؟ قَالَ : كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا مِنْ رِزْقِكَ وَمِنْ عَطَائِكَ فَلَكَ الْحَمْدُ رَبَّنَا عَلَى نِعْمَتِكَ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ " .
نوید مجید طیب

سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے طاؤس رحمہ اللہ کے بیٹے سے پوچھا جب آپ کے والد صاحب سواری پر سوار ہوتے تو کیا کہتے تھے تو کہنے لگے کہ وہ کہتے تھے : ”اے اللہ! یہ تیرا دیا ہوا رزق اور تیری عطا ہے اے رب ! تیری نعمت پر تیری ہی تعریف ہے، (پاک ہے وہ ذات جس نے یہ ہمارے لیے مسخر کر دی حالانکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی طاقت نہیں تھی۔)

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صدقة الفطر / حدیث: 377
تخریج حدیث صحیح مسلم ، الحج، باب ما یقول اذا رکب الی سفر الحج ...... الخ، رقم : 1342 عن ابن عمر