السنن المأثورة
باب الحق في الركاز— دفینہ کی زکاۃ کا بیان
باب الحق في الركاز باب: دفینہ کی زکاۃ کا بیان
حدیث نمبر: 364
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مسلمان پر اس کے غلام اور اس کے گھوڑے میں کوئی زکاۃ نہیں۔“
وضاحت:
➊ مویشیوں میں سے صرف اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکریوں پر زکاۃ واجب ہے۔ گھوڑوں کی زکاۃ سے متعلق اگرچہ اہل علم رحمہ اللہ میں اختلاف ہے تاہم راجح بات یہی ہے کہ ان میں زکاۃ فرض نہیں ہے۔
➋ حدیث میں مذکورہ غلام سے مراد ذاتی خدمت کے لیے رکھا گیا غلام جبکہ گھوڑے سے مراد ذاتی سواری کا گھوڑا ہے۔
➌ اگر غلام اور گھوڑا تجارت کی غرض سے ہوں تو ان پر مال تجارت ہونے کی وجہ سے زکاۃ ہوگی۔
➍ کتاب و سنت میں صدقہ کا کلمہ نفلی صدقہ اور فرضی زکاۃ کے معنی میں مستعمل ہے۔ یہاں احادیث میں صدقہ بمعنی فرضی زکاۃ ہے۔
➋ حدیث میں مذکورہ غلام سے مراد ذاتی خدمت کے لیے رکھا گیا غلام جبکہ گھوڑے سے مراد ذاتی سواری کا گھوڑا ہے۔
➌ اگر غلام اور گھوڑا تجارت کی غرض سے ہوں تو ان پر مال تجارت ہونے کی وجہ سے زکاۃ ہوگی۔
➍ کتاب و سنت میں صدقہ کا کلمہ نفلی صدقہ اور فرضی زکاۃ کے معنی میں مستعمل ہے۔ یہاں احادیث میں صدقہ بمعنی فرضی زکاۃ ہے۔