السنن المأثورة
ما جاء في الجمع بين الصلاتين في المطر— بارش کی صورت میں نمازیں جمع کرنے کا بیان
ما جاء في الجمع بين الصلاتين في المطر باب: بارش کی صورت میں نمازیں جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 36
وَأَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ قَدِمَ الْمَدِينَةَ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ , ثُمَّ حُوِّلَتِ الْقِبْلَةُ قَبْلَ بَدْرٍ بِشَهْرَيْنِ " .نوید مجید طیب
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں آنے کے بعد سولہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی پھر غزوہ بدر سے دو ماہ پہلے قبلہ تبدیل کیا گیا۔
وضاحت:
➊ قباء بستی مدینہ سے جنوب کی جانب دو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔
➋ دو رکعت نماز اداء کرنے پر عمرہ کرنے کے برابر ثواب ہے۔
➌ قباء میں مذکورہ خبر اس وقت پہنچی جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے دوران نماز ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سر تسلیم خم کیا ہے: وہ نقشہ جس میں صفائی ہو
ادھر فرمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہو ادھر گردن جھکائی ہو
➍ معلوم ہوا خبر واحد حجت ہے۔
➎ تمام روایات کو جمع کرنے سے پتہ چلتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی نماز جو کعبہ کی طرف منہ کر کے پڑھی وہ نماز ظہر تھی وحی بھی ظہر کے وقت آئی تھی، آہستہ آہستہ خبر دوسری مساجد تک پہنچی مسجد بنو حارثہ میں یہ خبر عصر کے وقت پہنچی انہوں نے بھی نماز کی حالت میں اپنا رخ تبدیل کر لیا اس لیے اس مسجد کا نام قبلتین پڑ گیا۔
➏ یہ خبر قباء میں اگلی صبح کو پہنچی اس طرح مسجد بنو حارثہ نے نماز ظہر اور مسجد قباء والوں نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء، اور آدھی نماز فجر غیر قبلہ کی طرف پڑھی اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ اگر آدمی اپنے علم واجتہاد کے مطابق قبلہ کا تعین کر کے نماز پڑھ لے بعد میں پتہ چلے کہ غیر قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی ہے تو نماز دوہرانے کی ضرورت نہیں امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر محدثین نے یہی استدلال کیا ہے۔
➐ تحویل قبلہ سے متعلق قرآنی احکام سورہ بقرہ آیت نمبر 142 تا 150 میں تفصیلاً مذکور ہیں۔
➑ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بھی یہی بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ [صحیح بخاری: 40]
➋ دو رکعت نماز اداء کرنے پر عمرہ کرنے کے برابر ثواب ہے۔
➌ قباء میں مذکورہ خبر اس وقت پہنچی جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے دوران نماز ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سر تسلیم خم کیا ہے: وہ نقشہ جس میں صفائی ہو
ادھر فرمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہو ادھر گردن جھکائی ہو
➍ معلوم ہوا خبر واحد حجت ہے۔
➎ تمام روایات کو جمع کرنے سے پتہ چلتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی نماز جو کعبہ کی طرف منہ کر کے پڑھی وہ نماز ظہر تھی وحی بھی ظہر کے وقت آئی تھی، آہستہ آہستہ خبر دوسری مساجد تک پہنچی مسجد بنو حارثہ میں یہ خبر عصر کے وقت پہنچی انہوں نے بھی نماز کی حالت میں اپنا رخ تبدیل کر لیا اس لیے اس مسجد کا نام قبلتین پڑ گیا۔
➏ یہ خبر قباء میں اگلی صبح کو پہنچی اس طرح مسجد بنو حارثہ نے نماز ظہر اور مسجد قباء والوں نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء، اور آدھی نماز فجر غیر قبلہ کی طرف پڑھی اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ اگر آدمی اپنے علم واجتہاد کے مطابق قبلہ کا تعین کر کے نماز پڑھ لے بعد میں پتہ چلے کہ غیر قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی ہے تو نماز دوہرانے کی ضرورت نہیں امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر محدثین نے یہی استدلال کیا ہے۔
➐ تحویل قبلہ سے متعلق قرآنی احکام سورہ بقرہ آیت نمبر 142 تا 150 میں تفصیلاً مذکور ہیں۔
➑ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بھی یہی بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ [صحیح بخاری: 40]