حدیث نمبر: 347
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَدْبَرَ النَّهَارُ وَأَقْبَلَ اللَّيْلُ وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " .
نوید مجید طیب

عاصم بن عمر رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب دن جاتا رہے رات آجائے سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار افطار کر لے۔“

وضاحت:
➊ افطاری میں جلدی سے مراد جونہی سورج غروب ہو روزہ افطار کر لینا چاہیے کیونکہ افطاری میں تاخیر کرنا گمراہ لوگوں کا شیوہ ہے۔
➋ یہود و نصاریٰ احکامِ الہیہ میں افراط و تفریط کا شکار ہوئے اس لیے مسلمانوں کو ان کی مخالفت کا حکم دیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ شریعت کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ کرو کیونکہ ان حدود سے تجاوز دنیا و آخرت کے خسارے کا باعث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «لا يزال الدين ظاهرا ما عجل الناس الفطر لأن اليهود والنصارى يؤخرون» [سنن ابی داؤد: 2353]
دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ تاخیر سے افطار کرتے ہیں۔
➌ معلوم ہوا شیعہ حضرات کا روزہ کھولنے کے لیے تاروں کے نکلنے کا انتظار کرنا غلط ہے بلکہ یہ تاخیر یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے۔
➍ اسی طرح بعض الناس کا احتیاط کے نام پر سحری جلدی اور افطاری لیٹ کرنا بھی گمراہی ہے روزہ اللہ کی امانت ہے، مؤذن نے «الله اكبر» کہا فوراً امانت واپس کرو اس کا یہی وقت مقرر ہے۔
➎ کتاب و سنت کی اتباع و پیروی میں خیر ہے۔
➏ صحابہ رضی اللہ عنہم سحری انتہائی آخری وقت میں اور افطاری غروب کے ساتھ ہی فوراً کرتے اس لیے اس معاشرے میں خیر و برکت تھی اور جن معاشروں میں احادیث کی مخالفت ہو رہی ہو وہ معاشرے پرفتن اور نحوست، ذنوب سے بھرے ہوتے ہیں۔
لوٹ جا عہدِ نبی کی سمت رفتارِ جہاں
پھر مری پسماندگی کو ارتقاء درکار ہے
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في تعجيل الفطر / حدیث: 347
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصوم، باب متى يحل فطر الصائم، رقم : 1954 ، مسلم، الصیام، باب بیان وقت انقضاء الصوم وخروج النہار، رقم : 1100