السنن المأثورة
باب ما جاء في حجامة الصائم— روزے دار کو سنگی لگانے کا بیان
باب ما جاء في حجامة الصائم باب: روزے دار کو سنگی لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 343
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”سینگی لگانے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
وضاحت:
سینگی سے روزہ ٹوٹنے میں اہل علم کے ہاں اختلاف ہے۔ جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ جن احادیث میں روزہ ٹوٹنے کا ذکر ہے وہ منسوخ ہیں۔ اور اس شخص کے لیے حالت روزہ میں سینگی مکروہ ضرور ہے جسے کمزوری لاحق ہو جیسا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: «أكنتم تكرهون الحجامة للصائم قال لا إلا من أجل الضعف»
کیا آپ لوگ روزہ دار کے لیے سینگی مکروہ جانتے ہیں تو انہوں نے جواباً کہا نہیں البتہ کمزوری کے خیال سے حالت روزہ میں سینگی لگوانا اچھا نہیں سمجھتے۔ [صحیح بخاری: 1940]
کیا آپ لوگ روزہ دار کے لیے سینگی مکروہ جانتے ہیں تو انہوں نے جواباً کہا نہیں البتہ کمزوری کے خیال سے حالت روزہ میں سینگی لگوانا اچھا نہیں سمجھتے۔ [صحیح بخاری: 1940]