حدیث نمبر: 339
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلا بِيَوْمَيْنِ إِلا أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاثِينَ ثُمَّ أَفْطِرُوا " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ماہ رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو ہاں اگر کسی کے معمول کا روزہ آجائے اتفاقا تو وہ رکھ لے، رویت ہلال پر روزہ رکھو، اور رؤیت ہلال پر ہی افطار کرو اگر چاند ابر آلود ہو تو تیس کی تعداد پوری کر لو پھر عید کرو۔“

وضاحت:
➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ [البقرہ: 189]
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ سے چاند کے احوال کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے! وہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے اوقات مقررہ ہیں اور نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے گھروں میں ان کے پچھواڑوں کی طرف سے آؤ بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی پرہیز گاری اختیار کرے، اور تم اپنے گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ، اور تم اللہ سے ڈرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔
➋ سورج ایک ہی حالت میں رہتا ہے اس کے ذریعے وقت اور تاریخ معلوم کرنا دنیا کے ہر حصے میں رہنے والوں کے لیے ممکن نہ تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے بدلنے والے چاندوں کو بطور کیلنڈر مقرر فرمایا۔ حج، کفارات، روزہ، عید الفطر، معاملات، طلاق اور وفات کی عدتیں چاند ہی کے لحاظ سے مقرر و متعین ہیں۔
➌ ہماری ملکی حدود اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں کی بلکہ ریڈ کلف نے مقرر کی تھی جس نے اختلاف مطالع کو نہیں بلکہ اختلافِ ادیان کو دیکھ کر فیصلہ کیا لہذا ہمارے یہاں پاکستان میں اختلاف مطالع ممکن ہے۔
➍ اگر آج خلافت واپس آ جائے سعودیہ اور پاکستان کا ایک ہی حکمران ہو جائے تو کیا ہمیشہ کے لیے سعودیہ اور پاکستان میں ایک ہی دن عید ہوا کرے گی؟ عیدوں اور روزوں کا تعلق مطالع (طلوع ہونے کی جگہ) سے ہے نہ کہ ملکی حدود سے۔ ایک بے وقوف قوم ایسی بھی ہے، جو انسانیت کے روپ میں ہی ظاہر ہوئی ہے لیکن کہتی ہے چاند ایک ہے لہذا پوری دنیا ایک ہی دن روزہ رکھے اور ایک ہی دن پوری دنیا میں یوم العید مقرر ہونا چاہیے یہ نقلاً وعقلاً محال ہے۔
➎ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک دن پہلے روزہ رکھتے بعض نے کہا کہ یہ اُن کی عادات میں سے تھا کہ سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھتے تو اتفاقاً وہ دن آگیا اور روزہ رکھ لیا جس کو راوی نے بیان کر دیا۔
➏ مطلع ابر آلود ہو جانے کی صورت میں تیس کی گنتی کو مکمل کیا جائے گا۔
➐ معلوم ہوا رمضان کے روزے فرض ہیں جبکہ عید کے دن روزہ رکھنا ممنوع ہے۔
➑ رمضان المبارک کے روزے شروع کرنے اور عید الفطر منانے کے لیے رویت ہلال ضروری ہے یا پھر گزشتہ چاند کی تیس تک گنتی مکمل کی جائے گی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في تقدم الشهر / حدیث: 339
تخریج حدیث سنن ترمذی، الصوم، باب لا تقدموا الشہر بصوم، رقم : 684 وقال حسن صحيح، وقال الالبانی: صحیح، مسند احمد : 278/16، رقم : 10451 وقال الارنوؤط: حدیث صحیح