حدیث نمبر: 293
عَنْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلَكِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ قَالَهُ " .نوید مجید طیب
عبداللہ بن عمرو القاری رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا فرماتے تھے کہ جمعہ کا روزہ رکھنے سے میں نہیں منع کر رہا بلکہ محمد ﷺ نے منع فرمایا مجھے اس کعبہ کے رب کی قسم۔
وضاحت:
➊ صرف جمعہ کا نفلی روزہ رکھ لینا منع ہے۔ اس صورت میں جائز ہے اگر ساتھ جمعرات یا ہفتے کا روزہ رکھ لیا جائے۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے جمعہ کا روزہ رکھا ہوا تھا تو آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تو نے کل بھی روزہ رکھا تھا؟ کہنے لگی: نہیں؛ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا آئندہ کل رکھو گی؟ کہنے لگی: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے حکم دیا: روزہ افطار کرو۔ [صحیح بخاری: 1986]
➋ بعض آثارِ صحابہ سے بیان ہوا ہے کہ جمعہ کا دن "یوم العید" اور کھانے پینے کا دن ہے۔
➌ حدیثِ جویریہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہفتے کے آگے پیچھے ملا کر اگر روزہ رکھا جائے تو بروز ہفتہ بھی روزہ رکھا جا سکتا ہے، اکیلے ہفتے کا روزہ منع ہے کیونکہ یہ یہودیوں کی عبادت کا دن ہے اور ہم ان کی مخالفت پر مامور ہیں۔
➍ ابن باز رحمہ اللہ (سابق مفتیِ سعودیہ) کی رائے میں اکیلے ہفتے کا روزہ رکھا جا سکتا ہے، وہ «لا يصومن احد يوم السبت» والی روایت کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ ہفتے کے ساتھ بھی پہلے یا بعد والا دن ملانا چاہیے تاکہ شکوک و شبہات سے دور رہا جا سکے۔
➎ بعض علماء نے ہفتے یا اتوار کا اکیلا روزہ رکھنا مکروہ گردانا ہے الا یہ کہ کوئی آدمی صیام داؤد علیہ السلام رکھتا ہو کہ ایک دن روزہ رکھے ایک دن افطار کرے ایسی صورت میں تو ظاہر ہے یا ہفتے کا روزہ رکھے گا یا اتوار کا تو یہ اس کی عادت ہے لہذا اس کے لیے جواز ہے کیونکہ اس نے خصوصی اہتمام سے اس دن کو خاص نہیں کیا اور یہی بات عمدہ معلوم ہوتی ہے۔ اگر آدمی اپنی طرف سے دنوں کو مخصوص کر کے عبادت کرنا یا اذکار وغیرہ کو اپنی طرف سے مخصوص کرنا چھوڑ دے تو بہت سی بدعات سے بچ جائے گا۔ دن اللہ کے ہیں، عبادت بھی اللہ کی ہے لہذا ان کو خاص کرنا نہ کرنا بھی شارع کا کام ہے کسی مولوی، پیر کا نہیں۔
➋ بعض آثارِ صحابہ سے بیان ہوا ہے کہ جمعہ کا دن "یوم العید" اور کھانے پینے کا دن ہے۔
➌ حدیثِ جویریہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہفتے کے آگے پیچھے ملا کر اگر روزہ رکھا جائے تو بروز ہفتہ بھی روزہ رکھا جا سکتا ہے، اکیلے ہفتے کا روزہ منع ہے کیونکہ یہ یہودیوں کی عبادت کا دن ہے اور ہم ان کی مخالفت پر مامور ہیں۔
➍ ابن باز رحمہ اللہ (سابق مفتیِ سعودیہ) کی رائے میں اکیلے ہفتے کا روزہ رکھا جا سکتا ہے، وہ «لا يصومن احد يوم السبت» والی روایت کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ ہفتے کے ساتھ بھی پہلے یا بعد والا دن ملانا چاہیے تاکہ شکوک و شبہات سے دور رہا جا سکے۔
➎ بعض علماء نے ہفتے یا اتوار کا اکیلا روزہ رکھنا مکروہ گردانا ہے الا یہ کہ کوئی آدمی صیام داؤد علیہ السلام رکھتا ہو کہ ایک دن روزہ رکھے ایک دن افطار کرے ایسی صورت میں تو ظاہر ہے یا ہفتے کا روزہ رکھے گا یا اتوار کا تو یہ اس کی عادت ہے لہذا اس کے لیے جواز ہے کیونکہ اس نے خصوصی اہتمام سے اس دن کو خاص نہیں کیا اور یہی بات عمدہ معلوم ہوتی ہے۔ اگر آدمی اپنی طرف سے دنوں کو مخصوص کر کے عبادت کرنا یا اذکار وغیرہ کو اپنی طرف سے مخصوص کرنا چھوڑ دے تو بہت سی بدعات سے بچ جائے گا۔ دن اللہ کے ہیں، عبادت بھی اللہ کی ہے لہذا ان کو خاص کرنا نہ کرنا بھی شارع کا کام ہے کسی مولوی، پیر کا نہیں۔