حدیث نمبر: 285
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ بِلالا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . قَالَ : وَكَانَ رَجُلا أَعْمَى لا يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ : أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ .نوید مجید طیب
سالم بن عبد اللہ بن عمر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک بلال رات کو اذان کہتے ہیں تو تم کھا پی لو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان کہیں“، راوی کہتے ہیں کہ ابن اُم مکتوم نابینے تھے وہ اذان اسی وقت کہتے تھے جب اُن سے کہا جاتا کہ ”صبح ہو گئی، آپ نے صبح کر لی۔“
وضاحت:
➊ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے خبر واحد کی حجیت پر استدلال کیا ہے۔
➋ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عہد نبوی میں نماز فجر سے قبل دو اذانیں ہوتی تھیں، ایک سحری کے وقت دوسری طلوع فجر پر۔
➌ آج کل یہ سنت متروک ہو چکی ہے اسے زندہ کرنے کی ضرورت ہے، اہل حدیث رمضان میں اس پر عمل کرتے ہیں حالانکہ پورا سال اس پر عمل ہونا چاہیے۔
➍ سنت کو چھوڑ دینے سے آنے والے وقت میں عمل کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے، لوگ سمجھتے ہیں یہ نیا دین آ گیا ہے جس کی وجہ سابقہ بے عملی ہوتی ہے۔
➎ بعض احادیث میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ پہلی اذان دیتے تھے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ دوسری، اس سے بات عیاں ہوتی ہے کہ ان کی باری تبدیل بھی ہوتی رہتی تھی۔ [سنن نسائی: 640، وقال الالبانی: صحیح]
➏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جن کے بارے میں سورۃ عبس نازل ہوئی۔
➐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر جاتے ہوئے ان کو اپنا نائب مقرر کر جاتے تھے، جو امت کی امامت بھی کرواتے تھے۔
➑ نابینا آدمی اذان، نماز کی امامت وغیرہ سے متعلقہ ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہے۔
➒ نابینے مؤذن یا امام کو اوقات سے متعلق آگاہ کرنا بینے لوگوں کی ذمہ داری ہے۔
➓ بعض لوگوں کا نابینے کی امامت سے متعلق اظہار کراہت غیر مستحسن اور غیر شرعی ہے۔
➋ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عہد نبوی میں نماز فجر سے قبل دو اذانیں ہوتی تھیں، ایک سحری کے وقت دوسری طلوع فجر پر۔
➌ آج کل یہ سنت متروک ہو چکی ہے اسے زندہ کرنے کی ضرورت ہے، اہل حدیث رمضان میں اس پر عمل کرتے ہیں حالانکہ پورا سال اس پر عمل ہونا چاہیے۔
➍ سنت کو چھوڑ دینے سے آنے والے وقت میں عمل کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے، لوگ سمجھتے ہیں یہ نیا دین آ گیا ہے جس کی وجہ سابقہ بے عملی ہوتی ہے۔
➎ بعض احادیث میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ پہلی اذان دیتے تھے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ دوسری، اس سے بات عیاں ہوتی ہے کہ ان کی باری تبدیل بھی ہوتی رہتی تھی۔ [سنن نسائی: 640، وقال الالبانی: صحیح]
➏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جن کے بارے میں سورۃ عبس نازل ہوئی۔
➐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر جاتے ہوئے ان کو اپنا نائب مقرر کر جاتے تھے، جو امت کی امامت بھی کرواتے تھے۔
➑ نابینا آدمی اذان، نماز کی امامت وغیرہ سے متعلقہ ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہے۔
➒ نابینے مؤذن یا امام کو اوقات سے متعلق آگاہ کرنا بینے لوگوں کی ذمہ داری ہے۔
➓ بعض لوگوں کا نابینے کی امامت سے متعلق اظہار کراہت غیر مستحسن اور غیر شرعی ہے۔