حدیث نمبر: 267
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ الْحَارِثِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ : " فَنَهَاهُ عَنْهُ فَذَكَرَ لَهُ الْحَاجَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْلِفَهُ نَوَاضِحَهُ " .
نوید مجید طیب

سیدنا محیصہ الحارثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنا لگانے سے حاصل شدہ کمائی کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا تو محیصہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ضرورت و حاجت ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”اس سے حاصل ہونے والی رقم اپنے اونٹ کے چارے پر خرچ کر دیا کر۔“

وضاحت:
➊ بعض پیشے جن کو شرعاً مستحسن نہیں سمجھا گیا ان میں سے ایک پیشے کا ذکر اس حدیث میں ہوا، اس دور میں سینگی لگانے والا گندا خون چوس کر باہر کھینچتا تھا اب جدید طریقہ آ گیا کپ یا گلاس خون کو خود کھینچ لیتا ہے۔
➋ اگر بطور مشورہ کوئی پوچھے تو اسے اچھا پیشہ اختیار کرنے کی تلقین کرنی چاہیے اور جہاں تک اس کے جواز کا تعلق ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ابو طیبہ رضی اللہ عنہ سے سینگی لگوائی اور اجرت دی۔ [بخاري: 2102]
اگر یہ پیشہ مطلقاً حرام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اجرت نہ دیتے اس لیے علماء نے اس کو مکروہ یعنی ناپسندیدہ کام جانا ہے۔
➌ سینگی ایک خاص طریقہ علاج ہے جو ماہر سے ہی لگوانی چاہیے۔ ماہرین خصوصی پوائنٹ پر درست کٹ لگا کر خون نکالتے ہیں۔ نیم حکیم خطرہ جان بھی بن سکتے ہیں۔
➍ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ طریقہ علاج ہے بلا جواز سینگیاں لگواتے رہنا درست عمل نہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 267
تخریج حدیث سنن ابن ماجہ التجارات، باب کسب الحجام، رقم: 2166 وقال الالبانی: صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2230، وصححه ابن الجارود، رقم: 583، مسند احمد: 101/39، رقم: 23695 وقال الارنوؤط حدیث صحیح، شرح معانی الآثار: 132/4