السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 250
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَلا تَنَاجَشُوا " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دھوکہ دینے کے لیے قیمت نہ بڑھاؤ۔“
وضاحت:
➊ نجش: کسی کو دھوکا دینے کے لیے جو چیز بکتی ہے اس کی تعریف کرنا، دھوکا دینے کی نیت سے نرخ بڑھانا تاکہ دوسرا شخص اس کو جلد خریدے یا کسی بکتی چیز کی برائی کرنا تاکہ خریدار اس کو چھوڑ کر دوسری طرف جائے۔ [لغات الحدیث: 4/304، 305]
➋ ہمارے عرف میں بولی دے کر چیز فروخت کی جاتی ہے کہ 500 کی لے لو، اگر 500 پر کوئی آمادہ نہیں ہوتا تو 50 اور کم کر کے کہتا ہے 450 کی لے لو، یہ بولی جائز ہے کیونکہ اس میں کوئی دھوکا نہیں وہی حصہ لیتا ہے جس نے خریدنی ہوتی ہے، اگر اس کی بھی کوئی ایسی صورت ہے کہ غیر خریدار قیمت بڑھا رہا ہے تو پھر یہ بھی ناجائز ہو جائے گی۔
➌ حدیث میں مذکور صورت کو اس لیے ممنوع قرار دیا گیا کیونکہ بولی دینے والا جھوٹ بول کر محض دھوکا دہی کرتا ہے۔
➋ ہمارے عرف میں بولی دے کر چیز فروخت کی جاتی ہے کہ 500 کی لے لو، اگر 500 پر کوئی آمادہ نہیں ہوتا تو 50 اور کم کر کے کہتا ہے 450 کی لے لو، یہ بولی جائز ہے کیونکہ اس میں کوئی دھوکا نہیں وہی حصہ لیتا ہے جس نے خریدنی ہوتی ہے، اگر اس کی بھی کوئی ایسی صورت ہے کہ غیر خریدار قیمت بڑھا رہا ہے تو پھر یہ بھی ناجائز ہو جائے گی۔
➌ حدیث میں مذکور صورت کو اس لیے ممنوع قرار دیا گیا کیونکہ بولی دینے والا جھوٹ بول کر محض دھوکا دہی کرتا ہے۔