السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 246
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے۔
وضاحت:
➊ خرید و فروخت اور تجارت انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ اس لیے شریعت اسلامیہ نے اس سے متعلق ایسے اصول وضوابط وضع کیے ہیں جن کو اپنا کر اس نظام کو ظلم و جور سے پاک منفعت بخش بنایا جاسکتا ہے۔
➋ تجارتی اصولوں میں سے ایک اہم اصول اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ بیع پر بیع جائز نہیں۔
➌ امام ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام سفیان رحمہ اللہ نے کہا: بیع پر بیع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی تیسرا آدمی سودا کے وقت آ کر کہے کہ میرے پاس اس سے بہتر مال موجود ہے۔ [سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 3437]
➍ ایسی حرکات سے اجتناب لازم ہے جن سے دوسروں کی حق تلفی ہو یا فتنہ و فساد کا خدشہ ہو۔
➋ تجارتی اصولوں میں سے ایک اہم اصول اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ بیع پر بیع جائز نہیں۔
➌ امام ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام سفیان رحمہ اللہ نے کہا: بیع پر بیع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی تیسرا آدمی سودا کے وقت آ کر کہے کہ میرے پاس اس سے بہتر مال موجود ہے۔ [سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 3437]
➍ ایسی حرکات سے اجتناب لازم ہے جن سے دوسروں کی حق تلفی ہو یا فتنہ و فساد کا خدشہ ہو۔