السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 229
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ وَكَانَ بَيْعًا يَبْتَاعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ ثُمَّ يُنْتَجُ الَّذِي فِي بَطْنِهَا .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کے حمل کی بیع سے منع فرمایا یہ بیع جاہلیت میں رائج تھی ایک آدمی اونٹ / اونٹنی خریدتا اور قیمت کی معیاد یہ مقرر کرتا کہ اونٹنی کا حمل بڑا ہو کر آگے حمل بنے گا (تو پیسے دوں گا)۔
وضاحت:
زمانہ جاہلیت میں اس بیع کی دو صورتیں تھیں ایک یہ کہ اونٹنی کے پیٹ کے بچے کا سودا کر دیتے مرے، جئے، نر ہو یا مادہ وضع حمل کے بعد خریدار طے شدہ رقم کے عوض اس کا مالک قرار پاتا اور دوسری بیع اس طرح کہ اس کی قیمت اس وقت قابل اداء ہو گی جب تیسری نسل معرض وجود میں آئے گی شرعاً یہ دونوں صورتیں ممنوع ہیں کیونکہ اس میں غرر اور دیگر غیر شرعی صورتیں موجود ہیں۔