السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة في السفر— سفر میں نماز کا بیان
باب ما جاء في الصلاة في السفر باب: سفر میں نماز کا بیان
حدیث نمبر: 21
وَأَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ ابْنَةَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ لأَبِي الْعَاصِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ , فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا , وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا " .نوید مجید طیب
سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ امامہ بنت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کر نماز پڑھی جو سیدنا ابو العاص بن ربیع بن عبد شمس رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے اسے رکھ دیتے جب کھڑے ہوتے پھر اٹھا لیتے۔
وضاحت:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچے کو اٹھا کر نماز پڑھنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
➋ یہ حدیث مسجد کے متولیوں کو بتاتی ہے کہ چھوٹے بچے مسجد میں آسکتے ہیں بچپن میں آئیں گے تو بڑے ہو کر بھی آئیں گے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنس عورت کو اٹھا کر مسجد میں لاتے تھے تاکہ امت دیکھ لے عورت کے لیے مسجد کے دروازے بند نہیں۔
➍ یہ حدیث اس عورت کے لیے آسانیاں پیدا کرتی ہے جس کا بچہ رو رہا ہے اور نماز کا وقت بھی ہو چکا کہ وہ بچے کو اٹھا کر بھی نماز پڑھ سکتی ہے۔
➎ سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد 11ھ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مغیرہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے عقد میں تاحیات رہیں۔
➏ نماز میں بوقت ضرورت حرکات کرنا جائز ہے۔ نماز میں ہر حرکت منع نہیں بلکہ سلام کا اشارے سے جواب دیا جا سکتا ہے۔ موذی چیز سانپ وغیرہ کو قتل کیا جا سکتا ہے۔ ہاتھ کے قریب دروازہ ہے تو کھولا جا سکتا ہے۔ جوتا اتارا جا سکتا ہے، تکلیف دہ چیز ایک حرکت سے ہٹائی جا سکتی ہے، موبائل فون نماز کے دوران شور کرے تو اسے بند کیا جا سکتا ہے۔ جان لیوا شے سے بچایا جا سکتا ہے جیسے بجلی کا سوئچ بند کر دینا وغیرہ، آگے سے گزرنے والے کو لڑائی کی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ بچے کو اٹھایا جا سکتا ہے، مہالک سے بچایا جا سکتا ہے یہ وہ فقہ الدین ہے جس سے نام نہاد فقیہ عاری ہے۔
➋ یہ حدیث مسجد کے متولیوں کو بتاتی ہے کہ چھوٹے بچے مسجد میں آسکتے ہیں بچپن میں آئیں گے تو بڑے ہو کر بھی آئیں گے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنس عورت کو اٹھا کر مسجد میں لاتے تھے تاکہ امت دیکھ لے عورت کے لیے مسجد کے دروازے بند نہیں۔
➍ یہ حدیث اس عورت کے لیے آسانیاں پیدا کرتی ہے جس کا بچہ رو رہا ہے اور نماز کا وقت بھی ہو چکا کہ وہ بچے کو اٹھا کر بھی نماز پڑھ سکتی ہے۔
➎ سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد 11ھ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مغیرہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے عقد میں تاحیات رہیں۔
➏ نماز میں بوقت ضرورت حرکات کرنا جائز ہے۔ نماز میں ہر حرکت منع نہیں بلکہ سلام کا اشارے سے جواب دیا جا سکتا ہے۔ موذی چیز سانپ وغیرہ کو قتل کیا جا سکتا ہے۔ ہاتھ کے قریب دروازہ ہے تو کھولا جا سکتا ہے۔ جوتا اتارا جا سکتا ہے، تکلیف دہ چیز ایک حرکت سے ہٹائی جا سکتی ہے، موبائل فون نماز کے دوران شور کرے تو اسے بند کیا جا سکتا ہے۔ جان لیوا شے سے بچایا جا سکتا ہے جیسے بجلی کا سوئچ بند کر دینا وغیرہ، آگے سے گزرنے والے کو لڑائی کی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ بچے کو اٹھایا جا سکتا ہے، مہالک سے بچایا جا سکتا ہے یہ وہ فقہ الدین ہے جس سے نام نہاد فقیہ عاری ہے۔