السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 201
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ " .نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے متعدد سالوں کے لیے درختوں کے پھل فروخت کرنے سے منع فرمایا اور آفات سے پہنچنے والے نقصان کی صورت میں (رقم) ساقط کر دینے کا حکم دیا ہے۔
وضاحت:
➊ شریعت اسلامیہ کی یہ خصوصیت ہے کہ اس نے تجارت کے اصول وضوابط متعین کیے ہیں ہر وہ بیع جس میں دھوکا فریب یا خیانت یا فریق واحد کا سراسر نقصان ہو تو شریعت نے اس سے منع کیا ہے۔
➋ سوق تمر میں ٹھیکیدار آج بھی مالکان سے پھل درختوں پر ہی خرید لیتے ہیں خود اتار کر اپنی دکانوں پر جیسے جیسے ضرورت پڑتی ہے لاتے رہتے ہیں شریعت نے اصول دیا کہ جب تک پھل سرخی مائل نہ ہو جائے یعنی اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ ابھی آفت سے پھل بچ گیا ہے فروخت نہ کرے کیونکہ اگر کچا فروخت کر دیا جائے تو اس سے خدشہ ہے کہ بیماری یا کیڑا کی وجہ سے اور بسا اوقات پھل کچے ہی گرنا شروع ہو جاتے ہیں تو اس سے خریدار کو سراسر نقصان تھا جب پھل سُرخ ہو جائے تو پھر آندھی وغیرہ سے گر بھی جائے تو کسی حد تک قابل استعمال ہوسکتا ہے۔
➌ جب ثریا ستارہ طلوع ہو جاتا ہے اس وقت عموماً پھل آب و ہوا کی بیماریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے موسم معتدل ہو جاتا ہے اس میں ستارے کا کوئی کمال یا تاثیر نہیں اور نہ اسلام اس طرح کی تاثیر کا قائل ہے مقصود وقت بتانا ہے پرانے وقتوں میں اوقات کار سائے کی لمبائی، ستاروں کے جھرمٹ، اور طلوع، غروب سے ہی متعین کیے جاتے تھے، رات کے مسافر بھی ستاروں کو دیکھ کر ٹائم کا اندازہ لگاتے تھے میرے والد صاحب ہمیں بچپن میں بتایا کرتے تھے کہ یہ ستاروں کا جھرمٹ جب وہاں پہنچے گا تو سحری ہو جائے گی وغیرہ وغیرہ۔
➍ پھل پکنے سے پہلے فروخت کرنا منع ہے تو ضرورت کے پیش نظر اجازت بخشی گئی، یہ اجازت تجارت کی غرض سے نہیں محض کھانے کے لیے ہے۔
➎ "عریہ" یہ ہے کہ ایک آدمی کے پاس اپنا درخت یا باغ نہیں اس کے بچے رطب کھجور کھانا چاہتے ہیں تو وہ آدمی کسی کو خشک کھجور دے کر اس کے بدلے رطب لے لے تو پانچ وسق تک یہ جائز ہے۔ اس سے زیادہ تجارت بن جاتی ہے لہذا پانچ وسق تک تازہ کھجور کھانے کا شوق پورا کیا جاسکتا ہے۔
➏ تجارت کے لیے آدمی خشک کھجور کے بدلے تازہ رطب کھجور نہیں لے سکتا ہے بلکہ خشک علیحدہ فروخت کرے گا جو پیسے ملیں گے اُن سے علیحدہ رطب کا سودا کرے گا ایسے ہی اعلیٰ ایک کلو کھجور ردی دو کلو کے بدلے لینا جائز نہیں ان کو علیحدہ علیحدہ فروخت کرے گا۔
➐ کئی سالوں کے لیے درخت کا پھل فروخت کرنے میں دھوکا تھا اور اس بات کے قوی امکان تھے کہ آئندہ سالوں میں درخت جل جائیں، کیڑا لگ جائے یا کوئی اور خرابی واقع ہو جائے۔
➑ ایسے ہی ہر دھوکے کی تجارت جیسے پانی میں موجود مچھلی، آسمان پر اڑتا کبوتر، بھیڑ کی پیٹھ پر اون، تھن میں دودھ، پیٹ میں بچہ، دودھ میں گھی یہ سب مجہول اشیاء ہیں جن کو فروخت کرنا حرام و ناجائز ہے کیونکہ اس میں دھوکے کا امکان ہے۔
➒ آفت میں قیمت کا ساقط ہونا یہ اس وقت کی بات ہے جب پھل پکنے سے قبل فروخت کرنا منع نہ کیا گیا تھا جو پہلے سودے ہو چکے تھے اور آفات آگئی ان کی قیمت ساقط کر کے تلافی کی گئی اب چونکہ پکنے سے پہلے سیل کرنا منع ہے اگر بعد میں سیل کرتا ہے پھر آفت آ جاتی ہے تو از راہ کرم مالک کو کچھ معاف کر دینا چاہیے اور اس آدمی پر مخیر حضرات صدقہ کریں کہ نقصان پورا ہو جائے کیونکہ تمام مسلم جسد واحد کی طرح ہیں ایک کو تکالیف پہنچتی ہے تو سارے بے چین ہو جاتے ہیں۔
➓ یہ ضابطہ پھلوں کے بارے میں ہے اگر گاڑی خریدی ایکسیڈنٹ ہو گیا تو فروخت کرنے والا ذمہ دار نہیں اور نہ تلافی کرنے کا پابند ہے۔ البتہ از راہ کرم کچھ رقم معاف کر دے تو اس کی نیکی ہے۔
➋ سوق تمر میں ٹھیکیدار آج بھی مالکان سے پھل درختوں پر ہی خرید لیتے ہیں خود اتار کر اپنی دکانوں پر جیسے جیسے ضرورت پڑتی ہے لاتے رہتے ہیں شریعت نے اصول دیا کہ جب تک پھل سرخی مائل نہ ہو جائے یعنی اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ ابھی آفت سے پھل بچ گیا ہے فروخت نہ کرے کیونکہ اگر کچا فروخت کر دیا جائے تو اس سے خدشہ ہے کہ بیماری یا کیڑا کی وجہ سے اور بسا اوقات پھل کچے ہی گرنا شروع ہو جاتے ہیں تو اس سے خریدار کو سراسر نقصان تھا جب پھل سُرخ ہو جائے تو پھر آندھی وغیرہ سے گر بھی جائے تو کسی حد تک قابل استعمال ہوسکتا ہے۔
➌ جب ثریا ستارہ طلوع ہو جاتا ہے اس وقت عموماً پھل آب و ہوا کی بیماریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے موسم معتدل ہو جاتا ہے اس میں ستارے کا کوئی کمال یا تاثیر نہیں اور نہ اسلام اس طرح کی تاثیر کا قائل ہے مقصود وقت بتانا ہے پرانے وقتوں میں اوقات کار سائے کی لمبائی، ستاروں کے جھرمٹ، اور طلوع، غروب سے ہی متعین کیے جاتے تھے، رات کے مسافر بھی ستاروں کو دیکھ کر ٹائم کا اندازہ لگاتے تھے میرے والد صاحب ہمیں بچپن میں بتایا کرتے تھے کہ یہ ستاروں کا جھرمٹ جب وہاں پہنچے گا تو سحری ہو جائے گی وغیرہ وغیرہ۔
➍ پھل پکنے سے پہلے فروخت کرنا منع ہے تو ضرورت کے پیش نظر اجازت بخشی گئی، یہ اجازت تجارت کی غرض سے نہیں محض کھانے کے لیے ہے۔
➎ "عریہ" یہ ہے کہ ایک آدمی کے پاس اپنا درخت یا باغ نہیں اس کے بچے رطب کھجور کھانا چاہتے ہیں تو وہ آدمی کسی کو خشک کھجور دے کر اس کے بدلے رطب لے لے تو پانچ وسق تک یہ جائز ہے۔ اس سے زیادہ تجارت بن جاتی ہے لہذا پانچ وسق تک تازہ کھجور کھانے کا شوق پورا کیا جاسکتا ہے۔
➏ تجارت کے لیے آدمی خشک کھجور کے بدلے تازہ رطب کھجور نہیں لے سکتا ہے بلکہ خشک علیحدہ فروخت کرے گا جو پیسے ملیں گے اُن سے علیحدہ رطب کا سودا کرے گا ایسے ہی اعلیٰ ایک کلو کھجور ردی دو کلو کے بدلے لینا جائز نہیں ان کو علیحدہ علیحدہ فروخت کرے گا۔
➐ کئی سالوں کے لیے درخت کا پھل فروخت کرنے میں دھوکا تھا اور اس بات کے قوی امکان تھے کہ آئندہ سالوں میں درخت جل جائیں، کیڑا لگ جائے یا کوئی اور خرابی واقع ہو جائے۔
➑ ایسے ہی ہر دھوکے کی تجارت جیسے پانی میں موجود مچھلی، آسمان پر اڑتا کبوتر، بھیڑ کی پیٹھ پر اون، تھن میں دودھ، پیٹ میں بچہ، دودھ میں گھی یہ سب مجہول اشیاء ہیں جن کو فروخت کرنا حرام و ناجائز ہے کیونکہ اس میں دھوکے کا امکان ہے۔
➒ آفت میں قیمت کا ساقط ہونا یہ اس وقت کی بات ہے جب پھل پکنے سے قبل فروخت کرنا منع نہ کیا گیا تھا جو پہلے سودے ہو چکے تھے اور آفات آگئی ان کی قیمت ساقط کر کے تلافی کی گئی اب چونکہ پکنے سے پہلے سیل کرنا منع ہے اگر بعد میں سیل کرتا ہے پھر آفت آ جاتی ہے تو از راہ کرم مالک کو کچھ معاف کر دینا چاہیے اور اس آدمی پر مخیر حضرات صدقہ کریں کہ نقصان پورا ہو جائے کیونکہ تمام مسلم جسد واحد کی طرح ہیں ایک کو تکالیف پہنچتی ہے تو سارے بے چین ہو جاتے ہیں۔
➓ یہ ضابطہ پھلوں کے بارے میں ہے اگر گاڑی خریدی ایکسیڈنٹ ہو گیا تو فروخت کرنے والا ذمہ دار نہیں اور نہ تلافی کرنے کا پابند ہے۔ البتہ از راہ کرم کچھ رقم معاف کر دے تو اس کی نیکی ہے۔