حدیث نمبر: 194
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ : بِعْتُ مَا فِي رُءُوسِ نَخْلِي بِمِائَةِ وَسْقٍ إِنْ زَادَ فَلَهُمْ وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِمْ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ بِالتَّمْرِ إِلا أَنَّهُ قَدْ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا " .
نوید مجید طیب

اسماعیل شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا (اگر اس طرح فروخت ہو) کہ کھجور پر لگے پھل کو میں سو وسق کے بدلے فروخت کر دوں کہ اگر کھجور پر لگا پھل سو وسق سے زیادہ ہو گیا تو تمہارا اگر کم ہو گیا تو بھی تم ذمہ دار (کیا ایسا سودا جائز ہے؟) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے پھل کے بدلے پھل فروخت کرنے سے منع فرمایا صرف عرايا نامی بیع کی اجازت دی ہے۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في البيوع / حدیث: 194
تخریج حدیث مسند احمد: 1968، رقم: 4590، وقال الارنؤوط: اسناده حسن، مسند الحمیدی: 296/2، رقم: 673 ۔