حدیث نمبر: 19
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ , وَزَادَ أَبُو الزُّبَيْرِ : هُوَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ .
نوید مجید طیب

ابو الزبیر کی روایت میں حدیث جابر رضی اللہ عنہ کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ آنے والے صحابی کا نام سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ تھا۔

وضاحت:
➊ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ وہ جلیل قدر صحابی ہیں جو اکثر حکمرانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و احادیث سکھایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ مروان نے خطبہ عید نماز سے پہلے دینا چاہا تو ایک آدمی نے اسے طریقہ نبوی یاد دلایا، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ [صحیح مسلم: 49]
الحمد للہ آج بھی منہج سلف کے پیروکار علماء حقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے راستے پر چلتے ہوئے عوام و خواص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل پیرا رہنے کے لیے زور دیتے ہیں۔ کثر اللہ امثالهم - ایک دفعہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں گئے ایک اموی گورنر عبدالرحمن ابن ام حکم بیٹھ کر جمعہ کا خطبہ دے رہا تھا سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس خبیث کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے جبکہ اللہ کا فرمان ہے: "اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو ادھر ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے چھوڑ جاتے ہیں" [الجمعة: 11] [صحیح مسلم: 864]
➋ معلوم ہوا خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر دینا فرض ہے اور یہی نبوی طریقہ ہے جس کی اتباع امت پر لازم ہے۔
➌ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی وہ واحد کسوٹی ہے جو اصلی عاشق اور دودھ پیتے مجنوں میں فرق کرتی ہے۔
➍ مذکورہ جملہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بروز جمعہ مسجد میں دوران خطبہ بھی آنے والا پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے پھر بیٹھے، آج کل جو عقل پرست لوگوں کو بیٹھا دیتے ہیں پھر درمیان میں سنتوں کا ٹائم دیتے ہیں یہ محض دین سے جہالت کا نتیجہ ہے۔
➎ خطبہ شروع ہونے سے قبل مسجد میں آنے والوں کے لیے نوافل کی تعداد متعین نہیں وہ جتنے چاہیں نوافل پڑھ سکتے ہیں۔
➏ تحیۃ المسجد کا اہتمام حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
➐ صحابہ کا جذبہ ایمان دیکھیں جس کو خود صدقہ کے کپڑے ملے وہ بھی فضائل صدقہ سن کر صدقہ سے لیا ہوا اللہ کی راہ میں دے دیتا تھا حتی کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود کہنا پڑتا کہ واپس لے لو یہ تمہارے اپنے ضرورت کی چیز ہے تم ہی اس کا زیادہ حقدار ہو
۔ ➑ یہ بھی معلوم ہوا کہ دوران خطبہ خطیب سامعین سے مخاطب ہو سکتا ہے بات چیت بھی کر سکتا ہے۔ خطبہ جمعہ کے دوران سامعین و حاضرین کا آس پاس لوگوں سے مصافحہ کرنا یا بات چیت کرنا منع ہے لیکن اگر خطیب بلائے تو اس کو جواب بھی دیا جا سکتا ہے۔
➒ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل دو خطبہ جمعہ میں ایک ہی مسئلہ سمجھایا داعی کو ہر وقت حسب موقع لوگوں کی اصلاح کے لیے کمر بستہ رہنا چاہیے۔
➓ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ سن کر نہ صرف خود عمل کرتے تھے بلکہ جب تک زندہ رہے لوگوں کو بھی عمل کرواتے رہے اور آگے ابلاغ بھی کرتے رہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة في السفر / حدیث: 19
تخریج حدیث سنن ابن ماجه، الصلاة باب ماجاء فيمن دخل المسجد والامام يخطب، رقم: 1112 وقال الالباني: صحيح