السنن المأثورة
باب في البيوع— خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب في البيوع باب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 187
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَاعَ نَخْلا وَقَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے پیوند لگانے کے بعد کھجور فروخت کی تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کا ہوگا الا یہ کہ خریدار شرط لگائے (کہ پھل میرا ہوگا)۔“
وضاحت:
➊ کھجور کا کھانا اور اس کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے۔
➋ درختوں کی پیوند کاری کرنا جائز اور درست ہے۔
➌ بائع اور مشتری سامانِ تجارت سے متعلق شروط رکھ سکتے ہیں۔
➍ شرائط کے ساتھ منسلک تجارت جائز ہے البتہ اس امر کا خیال رہے کہ شروط خلافِ شرع نہ ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من اشترط شرطاً ليس فى كتاب الله فهو باطل و ان اشترط مائة شرط» [صحیح بخاری: 2155]
جس نے خلافِ شرع شرط لگائی وہ باطل ہے اگرچہ سو شرائط ہوں۔
➋ درختوں کی پیوند کاری کرنا جائز اور درست ہے۔
➌ بائع اور مشتری سامانِ تجارت سے متعلق شروط رکھ سکتے ہیں۔
➍ شرائط کے ساتھ منسلک تجارت جائز ہے البتہ اس امر کا خیال رہے کہ شروط خلافِ شرع نہ ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من اشترط شرطاً ليس فى كتاب الله فهو باطل و ان اشترط مائة شرط» [صحیح بخاری: 2155]
جس نے خلافِ شرع شرط لگائی وہ باطل ہے اگرچہ سو شرائط ہوں۔