حدیث نمبر: 170
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ : إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا : يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ ، وَالآخَرُ يَوْمَ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ " . قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ فَقَالَ : إِنَّهُ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْ أَهْلِ الْعَالِيَةِ أَنْ يَنْتَظِرَ الْجُمُعَةَ فَلْيَنْتَظِرْهَا وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ فَلْيَرْجِعْ فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ : ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَجَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ .
نوید مجید طیب

ابو عبیدہ مولیٰ ابن ازہر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز عید پڑھنے کا شرف حاصل ہوا عمر رضی اللہ عنہ آئے نماز پڑھائی پھر لوگوں کی طرف رخ کیا اور خطبہ دیا اور فرمایا : ”ان دو دنوں کا روزہ رکھنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ہے ایک وہ دن جب تم روزے پورے کر لیتے ہو اور دوسرا جب قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔“ ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ میں نماز عید میں شریک ہوا وہ آئے نماز پڑھائی پھر لوگوں کی طرف رُخ کیا اور خطبہ دیا تو فرمایا : ”آج دوعید میں جمع ہوگئی ہیں (جمعہ اور عید) دور سے آنے والا آج اگر جمعہ بھی پڑھنا چاہتا ہے تو مدینہ میں ہی انتظار کرے اور جو واپس جانا چاہتا ہے جاسکتا ہے اسے میں اجازت دیتا ہوں۔“ ابو عبیدہ کہتے ہیں پھر میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز عید پڑھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی حاضر تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے نماز پڑھائی پھر پلٹے تو خطبہ ارشاد فرمایا۔

وضاحت:
➊ عیدین کے روز روزہ ممنوع ہے۔
➋ خطبہ عیدین میں عیدین سے متعلقہ مسائل بھی بیان کرنے چاہئیں۔
➌ جمعہ کے روز عید ہو تو نماز عید پڑھنے کے بعد جمعہ کی ادائیگی کی رخصت ہے۔
➍ عید کے روز جمعہ نہ پڑھنے والا نماز ظہر ادا کرے گا۔
➎ پہلے نماز عید ادا کرنا ہوگی اس کے بعد خطبہ عید ہے۔ نماز سے قبل تقریر یا خطبہ غیر مسنون ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب صلاة العيدين / حدیث: 170
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصوم، باب صوم يوم الفطر، رقم : 1990