السنن المأثورة
باب ما جاء في القراءة في الركوع والسجود— رکوع اور سجدوں میں قرأت کا بیان
باب ما جاء في القراءة في الركوع والسجود باب: رکوع اور سجدوں میں قرأت کا بیان
حدیث نمبر: 161
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا أَقُولُ نَهَاكُمْ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا ، وَأَنْ أَتَخَتَّمَ بِالذَّهَبِ " .نوید مجید طیب
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے منع کیا میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا کہ رکوع میں یا سجدہ میں تلاوتِ قرآن کروں یا سونے کی انگوٹھی پہنوں۔
وضاحت:
➊ قرآن کی تلاوت باعث اجر و ثواب ہے لیکن بے محل تلاوت کرنا ممنوع ہے جیسا کہ رکوع و سجود کی حالتیں اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہیں لیکن تلاوت قرآن ممنوع ہے۔ لہذا جہاں جس صورت و حالت میں تلاوت قرآن مشروع ہے وہیں اس کو اختیار کرنا چاہیے۔
➋ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سبحان ربي العظيم» اور سجدہ میں «سبحان ربي الاعليٰ» پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم: 772]
➌ درج بالا دعاؤں کے علاوہ بھی رکوع و سجود کی متعدد دعائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں جن کو ادعیہ ماثورہ کی کتب میں دیکھا جاسکتا ہے۔
➍ میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا اس سے یہ مراد نہیں کہ اُمت میں صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منع کیا تھا اور باقی کے لیے جائز ہے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس وقت صرف میں موجود تھا۔
➎ ریشم اور سونا مردوں پر حرام ہے۔
➏ مردوں کے لیے ایسا کپڑا پہننا نا جائز ہے جو عورتوں کا خاص رنگ ہے عورت پیلا رنگ پہن سکتی ہے۔ جیسے سونا پہن سکتی ہے البتہ سجدہ اور رکوع میں تلاوت قرآن دونوں مرد و عورت کے لیے منع ہے۔ خالص ہندوانی رنگ یا جو بدھ مت کا شعار ہے ان کے ساتھ تشبیہ سے بچنے کے لیے دونوں کو نہیں پہننا چاہیے۔ جیسے کالا رنگ جائز ہے لیکن محرم میں جب مجوسی اس کو اپنا شعار بنا ئیں تو مشابہت سے بچنے کے لیے اجتناب کرنا چاہیے۔ کیونکہ اسلام کی اپنی ثقافت اور کلچر ہے وہ کسی سے متاثر نہیں ہوتا اور نہ ہی اسلام کسی ثقافت کا محتاج ہے۔
➐ جو کہتے ہیں قرآن ہی پڑھا ہے، قرآن پڑھنا کوئی منع ہے، ان کے لیے بھی ان احادیث میں سبق ہے کہ ہر جگہ قرآن نہیں پڑھنا جہاں شریعت نے پڑھنے کا حکم دیا وہاں پڑھیں خود شریعت سازی نہ کریں۔
➑ سجدہ میں دعا کی جاسکتی ہے علماء امت کے نزدیک فرائض میں ماثور ادعیہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھیں اور نوافل میں حالت سجدہ میں جو مانگنا چاہیں مانگ لیں۔ واللہ اعلم۔
➋ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سبحان ربي العظيم» اور سجدہ میں «سبحان ربي الاعليٰ» پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم: 772]
➌ درج بالا دعاؤں کے علاوہ بھی رکوع و سجود کی متعدد دعائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں جن کو ادعیہ ماثورہ کی کتب میں دیکھا جاسکتا ہے۔
➍ میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا اس سے یہ مراد نہیں کہ اُمت میں صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منع کیا تھا اور باقی کے لیے جائز ہے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس وقت صرف میں موجود تھا۔
➎ ریشم اور سونا مردوں پر حرام ہے۔
➏ مردوں کے لیے ایسا کپڑا پہننا نا جائز ہے جو عورتوں کا خاص رنگ ہے عورت پیلا رنگ پہن سکتی ہے۔ جیسے سونا پہن سکتی ہے البتہ سجدہ اور رکوع میں تلاوت قرآن دونوں مرد و عورت کے لیے منع ہے۔ خالص ہندوانی رنگ یا جو بدھ مت کا شعار ہے ان کے ساتھ تشبیہ سے بچنے کے لیے دونوں کو نہیں پہننا چاہیے۔ جیسے کالا رنگ جائز ہے لیکن محرم میں جب مجوسی اس کو اپنا شعار بنا ئیں تو مشابہت سے بچنے کے لیے اجتناب کرنا چاہیے۔ کیونکہ اسلام کی اپنی ثقافت اور کلچر ہے وہ کسی سے متاثر نہیں ہوتا اور نہ ہی اسلام کسی ثقافت کا محتاج ہے۔
➐ جو کہتے ہیں قرآن ہی پڑھا ہے، قرآن پڑھنا کوئی منع ہے، ان کے لیے بھی ان احادیث میں سبق ہے کہ ہر جگہ قرآن نہیں پڑھنا جہاں شریعت نے پڑھنے کا حکم دیا وہاں پڑھیں خود شریعت سازی نہ کریں۔
➑ سجدہ میں دعا کی جاسکتی ہے علماء امت کے نزدیک فرائض میں ماثور ادعیہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھیں اور نوافل میں حالت سجدہ میں جو مانگنا چاہیں مانگ لیں۔ واللہ اعلم۔