السنن المأثورة
باب ما جاء في فضل التبكير إلى الجمعة— نماز جمعہ کے لیے جلدی آنے کی فضیلت کا بیان
باب ما جاء في فضل التبكير إلى الجمعة باب: نماز جمعہ کے لیے جلدی آنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 156
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً ، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ " . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ رَحِمَهُ اللَّهُ : حَدِيثُ سُفْيَانَ مَحْفُوظٌ كُلُّهُ إِلا إِدْخَالَهُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ بَيْنَ ابْنِ شِهَابٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنَّهُ قَدْ خُولِفَ فِيهِ وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ جَعَلَ مَكَانَ سَعِيدٍ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرَّ وَرَوَى ذَلِكَ ابْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَكَانَ الاثْنَانِ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنْ وَاحِدٍ إِلا أَنْ يَكُونَ ابْنُ شِهَابٍ سَمِعَهُ مِنْهُمَا مَعًا .نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بروز جمعہ غسلِ جنابت کیا پھر بروقت جمعہ کے لیے نکل پڑا گویا کہ اس نے اونٹ کی قربانی کی، جو دوسرے نمبر پر آیا گویا اس نے گائے قربان کی، پھر تیسری گھڑی میں آنے والے نے گویا سینگوں والا (خوبصورت) دنبہ قربان کیا، چوتھی گھڑی میں آنے والے نے گویا مرغی قربان کی، پانچویں گھڑی آنے والے نے انڈا قربان کیا، پھر جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے حاضر ہو جاتے ہیں۔“
وضاحت:
➊ ان احادیث میں جمعہ کے لیے جلدی آنے کا ذکر و ثواب بیان ہوا ہے۔ سلف صالحین صبح ہی آجاتے، جمعہ کے بعد جا کر کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے، افسوس آج امت مسلمہ پر نماز جمعہ اور خطبہ کا سننا بھی بھاری ہو گیا ہے۔ جب جماعت کھڑی ہونے لگتی ہے آجاتے ہیں اور بار بار گھڑی کی طرف نظر مارتے ہیں جیسے اللہ پر احسان کرنے آئے ہیں۔ دین سیکھنے کے لیے ایک ہی دن جمعہ عام عوام کو ملتا ہے، اگر اس دن بھی بروقت نہ پہنچے تو اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوگی۔ اللہ رب العزت نے کیا خوب فرمایا: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَّصِيبٍ﴾ [الشورى: 20]
"جو آخرت کی کھیتی (دینی علم و عمل) چاہتا ہے اس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے (یعنی دین الہی کے لیے اس کے پاس کوئی ٹائم نہیں) اسے بعض دنیا بھی دے دیتے ہیں (پوری پھر بھی نہیں ملتی) ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔"
اس آیت کی رو سے شرعی علم حاصل کرنا فرض ہے، جو نہیں حاصل کرتا اس کا انجام بھی بیان ہو گیا ہے۔
➋ احادیثِ بالا میں بیان شدہ فضیلت صرف اسی شخص کو حاصل ہے جو خطبہ جمعہ کے آغاز سے قبل مسجد میں موجود ہوتا ہے۔ جو شخص خطبہ شروع ہونے کے بعد مسجد میں آئے اسے محض فرض نماز ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے، وہ ان احادیث میں بیان ہونے والی فضیلت سے محروم ہو جاتا ہے۔
➌ انڈے اور مرغی کی قربانی کو مجازی کہنا راقم کے نزدیک درست نہیں، باقی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ عید الاضحیٰ پر ان کی قربانی کی جائے گی، بقرہ عید کے احکام و مسائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرما دیئے ہیں، عبادات میں قیاس آرائیاں نہیں چلتیں۔ العبادات توقیفیہ (عبادات حکمِ خدا پر موقوف ہیں، خود نہیں گھڑی جا سکتیں)۔
➍ یہ فرشتے عام اعمال لکھنے والوں کے علاوہ ہیں۔ (واللہ اعلم!)
➎ معلوم ہوا فرشتے خطبہ جمعہ میں شریک ہوتے ہیں اور خطبہ سنتے ہیں، لہٰذا خطیب کو چاہیے اپنے نامہ اعمال میں کتاب و سنت کے الفاظ درج کروائے، فرضی قصے کہانیاں اور من گھڑت واقعات نہ بیان کرے ورنہ عند اللہ پکڑ سخت ہے۔ «اعاذنا الله منه!»
"جو آخرت کی کھیتی (دینی علم و عمل) چاہتا ہے اس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے (یعنی دین الہی کے لیے اس کے پاس کوئی ٹائم نہیں) اسے بعض دنیا بھی دے دیتے ہیں (پوری پھر بھی نہیں ملتی) ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔"
اس آیت کی رو سے شرعی علم حاصل کرنا فرض ہے، جو نہیں حاصل کرتا اس کا انجام بھی بیان ہو گیا ہے۔
➋ احادیثِ بالا میں بیان شدہ فضیلت صرف اسی شخص کو حاصل ہے جو خطبہ جمعہ کے آغاز سے قبل مسجد میں موجود ہوتا ہے۔ جو شخص خطبہ شروع ہونے کے بعد مسجد میں آئے اسے محض فرض نماز ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے، وہ ان احادیث میں بیان ہونے والی فضیلت سے محروم ہو جاتا ہے۔
➌ انڈے اور مرغی کی قربانی کو مجازی کہنا راقم کے نزدیک درست نہیں، باقی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ عید الاضحیٰ پر ان کی قربانی کی جائے گی، بقرہ عید کے احکام و مسائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرما دیئے ہیں، عبادات میں قیاس آرائیاں نہیں چلتیں۔ العبادات توقیفیہ (عبادات حکمِ خدا پر موقوف ہیں، خود نہیں گھڑی جا سکتیں)۔
➍ یہ فرشتے عام اعمال لکھنے والوں کے علاوہ ہیں۔ (واللہ اعلم!)
➎ معلوم ہوا فرشتے خطبہ جمعہ میں شریک ہوتے ہیں اور خطبہ سنتے ہیں، لہٰذا خطیب کو چاہیے اپنے نامہ اعمال میں کتاب و سنت کے الفاظ درج کروائے، فرضی قصے کہانیاں اور من گھڑت واقعات نہ بیان کرے ورنہ عند اللہ پکڑ سخت ہے۔ «اعاذنا الله منه!»