حدیث نمبر: 142
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَخْرَجَ إِلَيَّ رَأْسَهُ فَغَسَلْتُهُ وَأَنَا حَائِضٌ .
نوید مجید طیب

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ”رسول اللہ ﷺ مسجد میں اعتکاف بیٹھے ہوتے سر مبارک میرے حجرے کی طرف کر دیتے میں حیض کی حالت میں ہی دھو دیتی تھی۔“

وضاحت:
➊ حیض کی وجہ سے عورت کا جسم ناپاک نہیں کہ ہاتھ لگ جائے تو نماز ٹوٹ جائے۔
➋ حائضہ سے صرف جماع فی الفرج منع ہے باقی اس کے ساتھ لیٹنا، مانوس ہونا، اس کے ہاتھ کا کھانا کھانا، اس میں کوئی حرج والی بات نہیں۔
➌ یہود اپنی عورتوں کو حالت حیض میں گھروں سے نکال کر علیحدہ جھونپڑی میں بھیج دیتے، جب پاک ہوتی تو واپس آتی۔ اسلام نے عورت کو عزت بخشی، جو عورت یہودی یا عیسائی کلچر میں عزت تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے وہ ناداں اور تاریخ سے ناواقف ہے، عورت کو ان کلچروں نے بھیڑ بکری کی طرح بازاروں میں فروخت کیا۔ اور آج کے فراڈ بھرے نعرے میرا جسم میری مرضی دوبارہ سے عورت کو شاملاٹ بنانا چاہتے ہیں، جبکہ عورت کی عزت اسلام کے علاوہ کہیں بھی نہیں۔
➍ اسلام میں عورت کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو مرد کو ہیں البتہ عورت کی صنفی صلاحیت کو سامنے رکھتے ہوئے دائرہ کار مختلف رکھا گیا ہے جو فطری طور پر ضروری ہے۔ خاندانی یونٹ برقرار رکھنے کے لیے مرد کو سربراہ بنایا گیا کیونکہ کوئی بھی ادارہ دو برابر اختیار کے حامل افراد کی سربراہی میں نہیں چل سکتا، یورپ نے مرد کی سربراہی کی نفی کی اس کا خمیازہ بکھرے خاندانی نظام کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ اسلامی دنیا کے بوڑھے میاں بیوی بھی ایک دوسرے کے دلوں کے قریب رہتے ہیں جبکہ یورپین کے سہارا کتے بنتے ہیں، خاندانی نظام تباہ ہونے کے بعد اپنے اوقات کتوں کے ساتھ گزارتے ہیں، مرتے ہوئے اپنی جائیداد کی وصیت کتے کے نام کر جاتے ہیں۔ یہ وہ ذلت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر دنیا میں مسلط کی ہے، کون عقل مند مسلم یہ ذلت خریدنے کے لیے تیار ہے؟
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الأذان / حدیث: 142
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الصوم، باب المعتكف يدخل البيت لحاجته، رقم: 2469، وقال الالبانی: صحيح؛ سنن ابن ماجہ، الطهارة، باب الحائض تتناول الشئى من المسجد، رقم: 633