أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْمَازِنِيِّ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ لَهُ : " إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ لِلصَّلاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ فَإِنَّهُ لا يَسْمَعُ مُدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلا إِنْسٌ وَلا شَيْءٌ إِلا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَالِكٌ أَصَابَ اسْمَ الرَّجُلِ .عبدالرحمن بن ابی صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے بکریاں اور صحرا پسند ہے دیکھ جب تو اپنی بکریوں یا صحرا میں ہو تو جب نماز کے لیے اذان کہے تو بآواز بلند کہو! کیونکہ مؤذن کی آواز جو بھی جن، انسان یا کوئی بھی چیز، جس تک آواز پہنچ رہی ہے سن لے تو وہ قیامت والے دن مؤذن کے حق میں گواہی دے گی۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں ممکن ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے آدمی کا نام درست بتایا ہو۔
➋ بے جان اشیاء بھی شعور رکھتی ہیں اگرچہ ہم نہ سمجھ سکیں۔
➌ بروزِ قیامت بے زبان چیز کی گواہی پر قرآن شاہد ہے۔
➍ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴾ [الزلزال: 4]
"اس دن زمین اپنی خبریں بیان کرے گی۔"
مؤذن اعلانِ توحید بلند کرتا ہے اور نماز کی دعوت دیتا ہے جو بہت بڑی نیکی ہے، اس نیکی کو کم نہیں جاننا چاہیے بلکہ اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
➎ کسبِ معاش کے لیے بکریاں پالنا اور بکریاں چرانا انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ» [صحيح بخاري: 2262]
"اللہ رب العزت کے ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔"