حدیث نمبر: 136
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدِّمَاءَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِي وَالأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا فَلْتَتْرُكِ الصَّلاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ تُصَلِّي " . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : يَحَدِّثُنِي مَالِكٌ ، فَآخُذُ حَدِيثَ هِشَامٍ وَحَدِيثَ نَافِعٍ ، وَالْجَوَابُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُلُّ عَلَى افْتِرَاقِ حَالِ فَإِذَا كَانَتْ لِلْمَرْأَةِ أَيَّامٌ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ مَعْرُوفَاتٌ ثُمَّ اسْتُحِيضَتْ وَكَانَتْ فِي أَيَّامِ دَمِهَا كُلِّهَا فِي حَالٍ وَاحِدَةٍ لا يَنْفَصِلُ دَمُهَا فَيَكُونُ مَرَّةً أَحْمَرَ قَانِيًا وَمَرَّةً أَصْفَرَ رَقِيقًا وَكَانَ مُشْتَبِهًا غَيْرَ مُنْفَصِلٍ نَظَرَتْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ فِي أَوَّلِ الشَّهْرِ كُنَّ أَوْ وَسَطِهِ أَوْ آخِرِهِ فَتَرَكَتِ الصَّلاةَ فِيهِنَّ لا تَزِيدُ عَلَيْهِنَّ سَاعَةً اسْتِظْهَارًا وَلا تَنْقُصُ مِنْهُنَّ سَاعَةً تَعْجِيلا ثُمَّ اغْتَسَلَتْ كَمَا تَغْتَسِلُ عِنْدَ طُهْرِهَا مِنَ الْحَيْضِ ثُمَّ صَلَّتْ وَصَامَتْ وَأَتَاهَا زَوْجُهَا إِنْ شَاءَ وَتَوَضَّأَتْ لِكُلِّ صَلاةٍ ، وَأَخْتَارُ لَهَا بِغَيْرِ إِيجَابٍ عَلَيْهَا أَنْ تَغْتَسِلَ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ وَلا تَدَعِ الْوُضُوءَ لِصَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ حَضَرَتْ ثُمَّ تُصَلِّيَ النَّوَافِلَ بِهَذَا الْوُضُوءِ فَإِذَا حَضَرَتْ صَلاةٌ مَكْتُوبَةٌ اسْتَأْنَفَتْ لَهَا وَضُوءًا وَأُحِبُّ لَهَا لَوْ أَنَّهَا أَنْقَتْ فَرْجَهَا وَاحْتَشَتْ وَاسْتَثْفَرَتْ ثُمَّ تَوَضَّأَتْ فَإِنْ تَوَضَّأَتْ وَالدَّمُ سَائِلٌ وَهُوَ كَذَلِكَ فِي أَيَّامِهَا مَضَتْ عَلَى وَضُوئِهَا وَإِنْ كَانَ دَمُ الْمُسْتِحَاضَةِ يَنْفَصِلُ فَيَكُونُ فِي أَيَّامٍ مِنْ شَهْرِهَا أَحْمَرَ ثَخِينًا قَانِيًا كَثِيرًا وَفِي أَيَّامٍ أُخْرَى رَقِيقًا قَلِيلا مَائِلا إِلَى الصُّفْرَةِ فَالأَيَّامُ الَّتِي كَانَ الدَّمُ فِيهَا أَحْمَرَ قَانِيًا أَيَّامُ حَيْضَتِهَا وَالأَيَّامُ الَّتِي كَانَ فِيهَا رَقِيقًا أَصْفَرَ قَلِيلا أَيَّامُ اسْتِحَاضَتِهَا فَتَغْتَسِلُ عِنْدَ إِدْبَارِ الدَّمِ الْكَثِيرِ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاةٍ فِي أَيَّامِ الدَّمِ الْقَلِيلِ وَتَفْعَلُ كَمَا أُمِرَتِ الأُخْرَى تَفْعَلُ وَلا تَسْتَظْهِرْ وَاحِدَةٌ مِنْهُمَا بِسَاعَةٍ . وَهَكَذَا حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوَاءً فَأَمَّا حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ فَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ يُخَالِفُ هَذَا وَإِنَّمَا حَكَى أَنَّ الْمَرْأَةَ نَفْسَهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاةٍ وَتَجْلِسُ فِي مِرْكَنٍ وَلَمْ يَحْكِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا بِذَلِكَ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَإِنِ ابْتُدِئَتِ امْرَأَةٌ وَلا أَيَّامَ لَهَا قَبْلَ الابْتِدَاءِ فَاسْتُحِيضَتْ فَطَبَقَ عَلَيْهَا الدَّمُ غَيْرَ مُنْفَصِلٍ قُلْنَا : لَيْسَ يَجُوزُ أَنْ تَجْعَلِي أَيَّامَكِ أَيَّامَ أُمِّكِ وَلا أَخَوَاتِكِ وَلا تَجْعَلِي حُكْمَكِ فِي الصَّلاةِ إِلا حُكْمَ نَفْسِكِ فَاتْرُكِي الصَّلاةَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَقَلَّ مَا تَتْرُكُهُ حَائِضٌ رَأَيْنَاهَا وَذَلِكَ يَوْمٌ وَاحِدٌ فِي الشَّهْرِ ثُمَّ صَلِّي .
نوید مجید طیب

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت کو زمانہ نبوی میں بہت خونِ استحاضہ آتا تھا اس کے لیے رسول اللہ ﷺ سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مسئلہ پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مرض لگنے سے قبل وہ عورت دیکھ لے کہ اسے کتنے دن حیض آتا تھا اتنے دن شمار کر کے نماز چھوڑ دے، جب اتنے دن گزر جائیں تو غسل کرے پھر لنگوٹ باندھ لے اور نماز پڑھے۔“ مؤلف نے یہاں امام شافعی رحمہ اللہ کا فتویٰ ذکر کیا ہے کہ اگر عورت پہلے معروف ایام میں حائضہ ہوتی تھی پھر استحاضہ کی بیماری لگی خون جاری ہی رہتا ہے منفصل (جدا) نہیں ہوتا تو پہلے ایام حیض پر قیاس کر کے نماز روزہ کرے گی اس میں ایک گھنٹے کی بھی کمی بیشی نہیں کرے گی بلکہ غسل کر کے نماز پڑھے گی لیکن ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرے گی نوافل بھی پڑھ سکتی ہے لیکن اگلی فرضی نماز کے لیے تازہ وضو کرے۔ اگر استحاضہ کبھی روکتا بھی ہے تو وہ جب پتلا پیلے رنگ کا خون دیکھے وہ استحاضہ ہے اور جب خون سرخ زیادہ آئے تو وہ حیض ہوگا اس کے ختم ہونے پر غسل کرے ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرے استحاضہ میں نماز جاری رکھے۔ دونوں قسم کی عورتیں احتیاط کے نام پر ایک گھنٹہ بھی کمی بیشی نہ کریں بلکہ نماز، روزے اور مباشرت کے احکامات پر عمل کریں۔ وہ عورت جو ہر نماز کے لیے غسل کرتی اور ٹپ میں بیٹھنے کا ذکر ہوا ہے تو اسے غسل کا حکم رسول اللہ ﷺ نے نہیں دیا تھا وہ خود غسل کرتی تھی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا : ایسی عورت جو ابتدا سے ہی استحاضہ میں مبتلا ہوگئی ہو اس کے ایام حیض معلوم ہی نہیں اور خونِ استحاضہ بھی جدا نہیں ہوتا تو ایسی عورت کو ہم اس کی ماں یا بہنوں پر قیاس نہیں کریں گے (کہ جتنے دن ان کو حیض آتا ہے اتنے اس کے شمار کر لیں) اس کا اپنا الگ حکم ہے وہ یہ کہ سب سے تھوڑی مدت ایام جو کہ حائضہ نماز چھوڑتی ہے وہ ایک دن ہے ایسی عورت ایک دن نماز چھوڑے گی پھر نماز پڑھے گی۔

وضاحت:
➊ عورت کو تین طرح کے خون آتے ہیں۔
(الف) خونِ حیض: یہ خون شروع کے ایام میں سیاہی مائل اور آخری ایام میں زردی مائل ہو جاتا ہے اور بدبودار ہوتا ہے۔ عموماً عورتیں ہر ماہ چھ یا سات دن اس میں مبتلا رہتی ہیں، یہ بیماری نہیں بلکہ صحت مند جوان عورت کو یہ خون آتا ہے جو جوانی کی علامت ہے۔ جب یہ خون آئے تو عورت نماز اور روزہ نہیں کرے گی نہ ہی اس حالت میں اس سے خاوند ہمبستری کر سکتا ہے۔ عورت حالتِ حیض میں رہ جانے والی نمازوں کی قضا نہیں دے گی لیکن حیض میں چھوڑے گئے روزوں کی قضا دے گی۔
(ب) خونِ نفاس: یہ بچے کی ولادت کے بعد آتا ہے، زیادہ سے زیادہ چالیس دن رہتا ہے، کم کی مقدار نہیں کسی وقت بھی ختم ہو سکتا ہے۔ اس کا حکم حیض کا حکم ہے کیونکہ یہ اصل میں حیض کا ہی خون ہوتا ہے۔ عورت حاملہ ہوتی ہے تو حیض آنا بند ہو جاتا ہے اور بچے کی غذا اسی خون سے ہوتی ہے۔ نو ماہ کے بعد جب یہ خون دوبارہ باہر آنا شروع ہوتا ہے تو چند دن قطروں کی شکل میں نکلتا رہتا ہے جو بعض دفعہ چالیس دن تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر اس سے زیادہ دن آئے تو دمِ استحاضہ شمار ہو گا اور نماز روزہ شروع کر دیا جائے گا، لیکن ضروری نہیں کہ چالیس دن ہی رہے، ایک ہفتہ سے کم بھی ہو سکتا ہے۔ اگر پہلے ختم ہو گیا تو عورت نماز روزہ کرے، خاوند ہمبستری بھی کر سکتا ہے کیونکہ خون ختم ہو چکا ہے۔
(ج) دمِ استحاضہ: یہ عام خون کی طرح سرخ ہی رہتا ہے، اس کا رنگ تبدیل نہیں ہوتا۔ یہ بیماری کا خون ہے جو کسی رگ کے پھٹنے سے آنا شروع ہوتا ہے؛ یہی وہ خون ہے جو دوسرے خون میں مداخلت کر کے عورت کے ایام کو خلط ملط کر دیتا ہے اور دیندار عورت پریشان ہو جاتی ہے کہ نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں، پاک ہوئی یا نہیں۔ اس کا ذکر احادیث میں ہے۔ اس کی موجودگی نماز، روزے اور جماع میں مانع نہیں، عورت پاک ہے۔ یہ عورت روزے بھی رکھے گی اور نماز بھی پڑھے گی لیکن ہر نماز کے لیے تازہ وضو کر کے فرض و سنن نوافل ادا کرے گی، اگلی فرضی نماز کے لیے پھر تازہ وضو کرے گی۔
➋ استحاضہ والی عورت پر ہر نماز کے لیے غسل واجب نہیں بلکہ کسی بھی نماز کے لیے غسل واجب نہیں۔ متعدد رواۃِ حدیث کا کہنا ہے کہ سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا خود ایسا کرتی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم نہیں دیا تھا کیونکہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو بھی یہ بیماری تھی، ان کو بھی حکم نہیں دیا کہ ہر نماز کے لیے غسل کرو اور نہ ہی وہ غسل کرتی تھیں۔ بلکہ اسے فرمایا: «تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ» (ہر نماز کے لیے تازہ وضو کر لے)۔ [صحیح بخاری: 228]
➌ مفتی اعظم سعودی عرب شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ استحاضہ والی عورت کے لیے غسل کرنا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حمنہ رضی اللہ عنہا کو اس کی وصیت فرمائی اور مشقت سے بچنے کے لیے افضل ہے کہ دن میں تین بار غسل کرے؛ نمازِ فجر کے لیے ایک غسل، ظہر و عصر کے لیے ایک غسل، اور مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل۔
➍ حیض اور استحاضہ میں مندرجہ ذیل طریقوں سے فرق معلوم ہو سکتا ہے۔ اس کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب خون بند ہی نہ ہو یا مخصوص ایام کے علاوہ خون آجائے یا عادت خراب ہو جائے تو پہچان اس طرح ہو گی: (الف) عادت کے ذریعے: کہ ہر ماہ کتنے دن بعد حیض کا خون آتا تھا اور کتنے دن رہتا تھا، اتنے دن ہی شمار کر کے نماز چھوڑے گی، اس سے زائد ایام استحاضہ کے شمار ہوں گے۔
(ب) اگر عادت خراب ہو گئی ہو تو خون کو رنگ بو وغیرہ سے پہچان لیا جائے کیونکہ خونِ حیض گاڑھا، سیاہی مائل اور ختم کے قریب زردی مائل ہو جاتا ہے اور بدبودار ہوتا ہے۔ جبکہ استحاضہ پتلا، بسا اوقات قلیل مقدار میں ہوتا ہے اور اس کا رنگ سرخ ہی رہتا ہے، تبدیل نہیں ہوتا۔
(ج) اگر اس سے بھی تمیز نہیں ہو رہی تو سوچ و بچار کے بعد غالب گمان پر عمل کرے، کسی سمجھدار عورت سے مشورہ کرے یا چیک کروا لے۔
(د) اگر ایسا بھی ممکن نہیں تو اپنی ہم عمر اور جسمانی طور پر ملتی جلتی خاندان کی عورت کی عادت پر قیاس کر کے عمل کرے۔
➎ حیض کی حالت میں جماع کرنا گناہ ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾ [البقرة: 222]
"اور اے نبی! لوگ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے: وہ تو گندگی ہے۔ تم حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو اور ان سے ہم بستری نہ کرو یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے، بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔"
➏ حالتِ حیض میں ایک عورت کے ساتھ خاوند کے لیے جماع کے علاوہ سب کچھ جائز ہے۔
➐ جو شخص حالتِ حیض میں بیوی کے پاس جائے وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنے کا شریعت کی طرف سے اختیار ہے۔ دینار سے مراد کویتی کرنسی نہیں بلکہ عہدِ نبوی کا دینار ہے جو کہ 4 گرام 374 ملی گرام سونے کا تھا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في الصلاة على الراحلة / حدیث: 136
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الطهارة، باب في المرأة تستحاض... الخ، رقم: 274، وقال الالبانی: صحيح؛ سنن نسائی، الطهارة، باب ذكر الاغتسال من الحيض، رقم: 208؛ مسند احمد: 123/44، رقم: 26510، وقال الارنوؤط: حديث صحيح رجاله ثقات