السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة— سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
باب ما جاء في الصلاة على الراحلة باب: سواری پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 121
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب گرمی سخت ہو نماز ٹھنڈی کر لو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ ہے۔“
وضاحت:
➊ دین میں آسانیاں ہیں گرمی کی شدت میں نماز ظہر کو تھوڑا مؤخر کر لینا چاہیے لیکن یہ نہ ہو کہ عصر کا وقت ہو جائے، سایہ ایک مثل ہونے سے پہلے پہلے پڑھ لینی چاہیے۔
➋ جہنم سے متعلقہ باتیں باطنی امور ہیں جن پر ایمان لانا لازم ہے۔
➌ ایک قول یہ ہے کہ جہنم اندر سانس کھینچتی ہے تو زمین سرد ہو جاتی ہے اور جب سانس باہر نکالتی ہے تو گرم ہو جاتی ہے یعنی جیسے جیسے اللہ کی زمین پر اس کی سانس پہنچتی ہے تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اخبار قطعی و حتمی ہیں جبکہ سائنس کے اندازے حتمی نہیں، ایک صدی کا سائنس دان ایک دعویٰ کرتا ہے تو اگلی صدی میں وہ نظریہ غلط ثابت ہو جاتا ہے۔
➍ یہ بھی ممکن ہے کہ جہنم کے بعض حصے انتہائی گرم اور بعض انتہائی سرد ہوں، وہاں سے سانس پہنچتی ہو۔ جہنم «اسفل السافلين» ہے، جیالوجی تسلیم کرتی ہے کہ زمین کے نیچے یا سمندر کے نیچے آگ ہے جہاں لوہا پانی بن جاتا ہے، مؤمن ایمان بالغیب کا پابند ہے، انسان کی عقل ناقص اور شریعت کامل ہے۔
➎ جس نے جہنم پیدا کی وہ زیادہ جانتا ہے کہ اس کی سانس کہاں اور کیسے اور کس طرح پہنچتی ہے۔ موجودہ دور کے بے عقل رویبضہ تجزیہ نگار کی شریعت فہمی کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں جس کے نزدیک نیوز پیپر اصل اور قرآن و سنت اس کے تابع ہے، وہ امت کے مسائل کے کیا فیصلے کر پائے گا؟
➏ جنت و جہنم دونوں اللہ کی نعمتیں ہیں جن کا تعارف کتاب و سنت نے پیش کر کے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔
➐ اس حدیث سے جہنم کا کلام کرنا بھی ثابت ہوتا ہے۔
➑ جہنم کی گرمی سے بچنے کے لیے ہر انسان کو ہر تدبیر کرنی چاہیے۔
➋ جہنم سے متعلقہ باتیں باطنی امور ہیں جن پر ایمان لانا لازم ہے۔
➌ ایک قول یہ ہے کہ جہنم اندر سانس کھینچتی ہے تو زمین سرد ہو جاتی ہے اور جب سانس باہر نکالتی ہے تو گرم ہو جاتی ہے یعنی جیسے جیسے اللہ کی زمین پر اس کی سانس پہنچتی ہے تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اخبار قطعی و حتمی ہیں جبکہ سائنس کے اندازے حتمی نہیں، ایک صدی کا سائنس دان ایک دعویٰ کرتا ہے تو اگلی صدی میں وہ نظریہ غلط ثابت ہو جاتا ہے۔
➍ یہ بھی ممکن ہے کہ جہنم کے بعض حصے انتہائی گرم اور بعض انتہائی سرد ہوں، وہاں سے سانس پہنچتی ہو۔ جہنم «اسفل السافلين» ہے، جیالوجی تسلیم کرتی ہے کہ زمین کے نیچے یا سمندر کے نیچے آگ ہے جہاں لوہا پانی بن جاتا ہے، مؤمن ایمان بالغیب کا پابند ہے، انسان کی عقل ناقص اور شریعت کامل ہے۔
➎ جس نے جہنم پیدا کی وہ زیادہ جانتا ہے کہ اس کی سانس کہاں اور کیسے اور کس طرح پہنچتی ہے۔ موجودہ دور کے بے عقل رویبضہ تجزیہ نگار کی شریعت فہمی کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں جس کے نزدیک نیوز پیپر اصل اور قرآن و سنت اس کے تابع ہے، وہ امت کے مسائل کے کیا فیصلے کر پائے گا؟
➏ جنت و جہنم دونوں اللہ کی نعمتیں ہیں جن کا تعارف کتاب و سنت نے پیش کر کے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔
➐ اس حدیث سے جہنم کا کلام کرنا بھی ثابت ہوتا ہے۔
➑ جہنم کی گرمی سے بچنے کے لیے ہر انسان کو ہر تدبیر کرنی چاہیے۔