کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرنے اور مقابلے کے وقت دعا کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ» وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ يُمْهِلُ ثُمَّ يَنْهَدُ إِلَى عَدُوِّهِ وَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلتا تو تھوڑی دیر ٹھہر کر دشمن کی طرف بڑھتے اور یہ دعا کرتے: ”اے کتاب نازل کرنے والے، اے بادل چلانے والے، اے احزاب کو شکست دینے والے! انہیں شکست دے اور ہمیں ان پر غالب فرما۔“
وضاحت:
چونکہ ابو حيان التيمي نے روایت کسی ایسے راوی سے کی ہے جس کا نام ذکر نہیں کیا ("من حدثه")، اس لیے سند میں انقطاع اور جہالت (مبہم راوی) کی وجہ سے ضعف ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ عَدُوِّكُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ عَسَى أَنْ تُبْتَلَوْا بِهِمْ، وَلَكِنْ قُولُوا: " اللَّهُمَّ اكْفِنَاهُمْ وَكُفَّ عَنَّا بَأْسَهُمْ، فَإِذَا جَاءُوكُمْ يَعْزِفُونَ وَيُرَجِّعُونَ وَيَصِيحُونَ، فَعَلَيْكُمْ بِالْأَرْضِ، وَقُولُوا: «اللَّهُمَّ نَوَاصِينَا وَنَوَاصِيهِمْ بِيَدِكِ، وَإِنَّمَا تَقْتُلُهُمْ أَنْتَ، فَإِذَا غَشَوْكُمْ فَثُورُوا فِي وُجُوهِهِمْ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ الْأَبَارِقَةِ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن کی ملاقات کی تمنا نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے شاید تم ان سے آزمائے جاؤ، بلکہ یوں کہو: اے اللہ! ہمیں ان سے بچا اور ان کی سختی ہم سے دور فرما۔ پھر جب وہ تمہارے قریب آئیں اور چیخیں ماریں تو زمین پر جم جاؤ اور یہ دعا کرو: اے اللہ! ہماری اور ان کی پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تو ہی انہیں قتل کرے گا۔ جب وہ تم پر غالب آئیں تو ان کے سامنے اٹھ کھڑے ہو اور جان لو کہ جنت چمکتی تلواروں کے نیچے ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: «السُّيُوفُ مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: کہا جاتا تھا کہ تلواریں جنت کی چابیاں ہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِنْ بُلِيتُمْ بِهِمْ فَقُولُوا: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُمْ نَوَاصِيهِمْ وَنَوَاصِينَا بِيَدِكَ فَقَاتِلْهُمْ لَنَا، وَاهْزِمْهُمْ لَنَا، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ، وَاحْمِلُوا عَلَيْهِمْ عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ، وَالْتَمِسُوا الْجَنَّةَ تَحْتَ الْأَبَارِقَةِ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن کی ملاقات کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو، اگر تم آزمائے جاؤ تو کہو: اے اللہ! تو ہمارا اور ان کا رب ہے، ہماری اور ان کی پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تو ان سے ہمارے لیے قتال فرما، ان کو ہمارے لیے شکست دے۔ نظریں نیچی رکھو، اللہ کی برکت کے ساتھ ان پر حملہ کرو، اور چمکتی تلواروں کے نیچے جنت تلاش کرو۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: أنا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي حُدَيْرٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرَ الْقِتَالُ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَنَصِيرِي، بِكَ أَحُولُ، بِكَ أُصُولُ، وَبِكَ أُقَاتِلُ»
مظاہر امیر خان
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قتال کے وقت کھڑے ہوتے تو یہ دعا کرتے: ”اے اللہ! تو میرا بازو ہے، میرا مددگار ہے، تیری مدد سے میں لڑتا ہوں، تیری مدد سے میں حملہ کرتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يَلْقَى الْعَدُوَّ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ حِينَ تَهُبَّ الْأَرْوَاحُ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا کہ دشمن سے زوال آفتاب کے بعد مقابلہ ہو جب ہوائیں چلتی ہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَاتَلَ قَاتَلَ حِينَ يَنْشَقُّ الْفَجْرُ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ، ثُمَّ يُمْسِكُ عَنِ الْقِتَالِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، ثُمَّ يُقَاتِلُ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ "
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قتال کرتے تو فجر کے پھوٹنے سے طلوع آفتاب تک قتال کرتے، پھر سورج ڈھلنے تک رکتے، پھر زوال کے بعد دوبارہ قتال کرتے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عِيَاضٍ الْفَزَارِيِّ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَشْرَفَ عَلَى قَرْيَةٍ لِيَدْخُلَهَا قَالَ: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاءِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرْضِ وَمَا أَقَلَّتْ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا»
مظاہر امیر خان
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بستی پر چڑھائی کرنے لگتے تو فرماتے: ”اے آسمان اور اس کے سائے والے کے رب، اے زمین اور اس پر بچھائے ہوئے کے رب! میں تجھ سے اس بستی کی بھلائی اور اس میں موجود بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور اس بستی کے شر اور اس میں موجود شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، قَالَ: نا حُصَيْنٌ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " مَنْ أَشْرَفَ عَلَى بَلْدَةٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي مَوَدَّةَ خِيَارِهِمْ، وَجَنِّبْنِي شِرَارَهُمْ، رَجَوْتُ أَنْ يُعْطَى ذَلِكَ "
مظاہر امیر خان
حضرت عون بن عبد اللہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جو کسی بستی پر پہنچے اور یہ دعا کرے کہ ”اے اللہ! ان کے اچھے لوگوں کی محبت عطا فرما اور ان کے برے لوگوں سے بچا“، تو امید ہے کہ اس کی یہ دعا قبول ہو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے خلاف دعا کی: ”اے کتاب نازل کرنے والے، اے جلد حساب لینے والے! اے اللہ! انہیں شکست دے اور انہیں ہلا کر رکھ دے۔“