حدیث نمبر: 3625
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: " {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ} [الأنفال: 60] أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ» ۖ سنو: قوت تیر اندازی ہے، سنو: قوت تیر اندازی ہے، سنو: قوت تیر اندازی ہے۔
حدیث نمبر: 3626
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَتُفْتَحُ لَكُمْ أَرَضُونَ يَكْفِيكُمُ اللَّهُ، فَلَا يَعْجِزَنَّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے کہا: ”تمہارے لیے زمینیں فتح ہوں گی، اللہ تمہيد كفایت کرے گا،” لہٰذا بعد:ہ اپنے تروں سے کھیلنے میں سستی نہ کرو۔
حدیث نمبر: 3627
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا رَامِيًا، وَكَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ يَمُرُّ بِي فَيَقُولُ: يَا خَالِدُ، اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ أُحَدِّثْكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ فِي الْجَنَّةِ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنَعْتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنَبِّلَهُ، ارْمُوا، وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَلَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ إِلَّا ثَلَاثٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتُهُ أَهْلَهُ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَ مَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ تَرَكَهَا أَوْ قَالَ كَفَرَهَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے کہا کہا: ”اللہ ایک تیر کی بدولت تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا: تیر بنانے والا، نیت کے ساتھ چلانے والا، اور تیر چلانے والا۔“ اور فرمایا: ”تیر اندازی کرو اور گھوڑ سواری کرو، مگر تیر اندازی سواری سے زیادہ مجھے محبوب ہے۔“ اور فرمایا: ”صرف تین چیزوں میں کھیلنے کی اجازت ہے: گھوڑے کی تربیت، اہل کے ساتھ کھیلنا، اور تیر۔“ اور کہا: ”جس نے سیکھ کر تیر اندازی چھوڑ دی اس نے اللہ کی نعمت کی ناشکری کی۔“
حدیث نمبر: 3628
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ - رَفَعَهُ - قَالَ: " كُلُّ شَيْءٍ مِنْ لَهْوِ الدُّنْيَا بَاطِلٌ إِلَّا تَأْدِيبَ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهُ، وَلَهْوَهُ عَلَى قَوْسِهِ، إِنَّهُ يَدْخُلُ فِي السَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةٌ الْجَنَّةَ: صَانِعُهُ مُحْتَسِبًا، وَالرَّامِي بِهِ، وَالْمُمِدُّ بِهِ "
مظاہر امیر خان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کا ہر کھیل باطل ہے سوائے مرد کے اپنے گھوڑے کی تربیت کرنے، اپنے اہل کے ساتھ کھیلنے، اور تیراندازی کرنے کے۔ ایک تیر کے ذریعے تین آدمی جنت میں داخل ہوں گے: تیر بنانے والا، تیر چلانے والا، اور تیر پکڑانے والا۔“
حدیث نمبر: 3629
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «لَا تَحْضُرُ الْمَلَائِكَةُ شَيْئًا مِنْ لَهْوِكُمْ إِلَّا رَمْيًا أَوْ رِهَانًا»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے: ”فرشتے تمہارے کسی کھیل میں حاضر نہیں ہوتے سوائے تیراندازی اور گھڑ دوڑ کے۔“
حدیث نمبر: 3630
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ مِنْ لَهْوِكُمْ إِلَّا الرِّهَانَ وَالرَّمْيَ»
مظاہر امیر خان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے تمہارے کسی کھیل میں حاضر نہیں ہوتے مگر تیراندازی اور گھڑ دوڑ میں۔“
حدیث نمبر: 3631
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «كُلُّ لَهْوٍ لَهَا بِهِ الْمُؤْمِنُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَهُ عَنْ قَوْسِهِ، وَأَدَبَهُ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهُ»
مظاہر امیر خان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤمن کا ہر کھیل باطل ہے سوائے اس کے کہ وہ تیر چلائے، اپنے گھوڑے کی تربیت کرے یا اپنے اہل کے ساتھ کھیل کرے۔“
حدیث نمبر: 3632
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ رِجَالٍ مِنَ الْفُقَهَاءِ أَحَدُهُمْ حَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَتَبَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ: «أَنْ عَلِّمُوا، مُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ، وَعَلِّمُوا غِلْمَانَكُمُ الْعَوْمَ»
مظاہر امیر خان
حضرت حکیم بن حکیم انصاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو لکھا: ”اپنے مجاہدین کو تیراندازی سکھاؤ اور اپنے غلاموں کو تیرنا سکھاؤ۔“
حدیث نمبر: 3633
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِفِتْيَةٍ يَرْمُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْمُوا يَا بَنِي إِسْمَاعِيلَ؛ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا»
مظاہر امیر خان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے جو تیراندازی کر رہے تھے، تو فرمایا: ”تیراندازی کرو اے بنی اسماعیل! تمہارے باپ اسماعیل علیہ السلام بھی ماہر تیرانداز تھے۔“
وضاحت:
ابو العالیہ تابعی ہیں اور براہِ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے ہیں (ارسال ہے)
حدیث نمبر: 3634
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ يَشْتَدُّ بَيْنَ الْهَدَفَيْنِ لَيْسَ عَلَيْهِ إِزَارٌ "
مظاہر امیر خان
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا گیا کہ وہ مدائن میں دو ہدفوں کے درمیان دوڑ لگا رہے تھے اور ان پر ازار نہیں تھا۔
وضاحت:
سليمان بن مهران الأعمش: ثقہ، مدلس۔ یہاں عن سے روایت کر رہے ہیں (یعنی تدلیس کا احتمال رہتا ہے)، مگر ابراہیم التیمی کی روایتیں مشہور ہیں۔
ابراہیم التيمي (ثقة إلا أنه يرسل ويدلس) کے والد (يزيد التيمي): مکمل نام: يزيد بن شريك التيمي۔ یہ بھی ثقہ تابعی ہیں۔ «رأيتُ حذيفة» یعنی انہوں نے مشاہدہ کیا ہے، یہ "سماع" (مشاہدہ) کی صراحت ہے۔
ابراہیم التيمي (ثقة إلا أنه يرسل ويدلس) کے والد (يزيد التيمي): مکمل نام: يزيد بن شريك التيمي۔ یہ بھی ثقہ تابعی ہیں۔ «رأيتُ حذيفة» یعنی انہوں نے مشاہدہ کیا ہے، یہ "سماع" (مشاہدہ) کی صراحت ہے۔
حدیث نمبر: 3635
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ حُذَيْفَةَ يَشْتَدُّ بَيْنَ الْهَدَفَيْنِ يَقُولُ: «أَنَا بِهَا فِي قَمِيصٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”میں قمیص پہن کر دو ہدفوں کے درمیان دوڑ لگاتا ہوں۔“
وضاحت:
سليمان بن مهران الأعمش: ثقہ، مدلس۔ یہاں عن سے روایت کر رہے ہیں (یعنی تدلیس کا احتمال رہتا ہے)، مگر ابراہیم التیمی کی روایتیں مشہور ہیں۔
ابراہیم التيمي (ثقة إلا أنه يرسل ويدلس) کے والد (يزيد التيمي): مکمل نام: يزيد بن شريك التيمي۔ یہ بھی ثقہ تابعی ہیں۔ «رأيتُ حذيفة» یعنی انہوں نے مشاہدہ کیا ہے، یہ "سماع" (مشاہدہ) کی صراحت ہے۔
ابراہیم التيمي (ثقة إلا أنه يرسل ويدلس) کے والد (يزيد التيمي): مکمل نام: يزيد بن شريك التيمي۔ یہ بھی ثقہ تابعی ہیں۔ «رأيتُ حذيفة» یعنی انہوں نے مشاہدہ کیا ہے، یہ "سماع" (مشاہدہ) کی صراحت ہے۔
حدیث نمبر: 3636
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَشْتَدُّ بَيْنَ الْهَدَفَيْنِ، وَيَقُولُ: «أَنَا بِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں دو ہدفوں کے درمیان دوڑ لگاتا اور کہتا: میں نے نشانہ مارا۔“
حدیث نمبر: 3637
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُهُ يَشْتَدُّ بَيْنَ الْهَدَفَيْنِ فِي قَمِيصٍ، فَإِذَا أَصَابَ خَصْلَةً قَالَ: «أَنَا بِهَا، أَنَا بِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا گیا کہ وہ قمیص میں دو ہدفوں کے درمیان دوڑ رہے تھے اور نشانہ لگانے پر کہتے: ”میں نے مار لیا۔“