کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: جس کا قول ہے کہ باندی بغیر دوپٹے کے باہر نکلتی ہے اور نماز پڑھتی ہے۔
حدیث نمبر: 3270
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ الْحَارِثَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ يُخْبِرُ أَبَا الشَّعْثَاءِ، قَالَ: سَأَلَ أَبِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ حَدِّ الْأَمَةِ، فَقَالَ عُمَرُ: «إِنَّ الْأَمَةَ نَبَذَتْ فَرْوَتَهَا مِنْ وَرَاءِ الدَّارِ» وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: مِنْ وَرَاءِ الْجِدَارِ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب باندی نے اپنی چادر پیچھے دیوار کے پیچھے پھینک دی تو اب وہ آزاد عورت کی طرح نہیں رہی۔“
وضاحت:
فقہی نکات: ❓ کیا یہ حد ہے یا تعزیر؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا جواب اصطلاحی فتویٰ نہیں، بلکہ فقیہانہ تبصرہ ہے وہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ: لونڈی اگر بآسانی زنا کرتی ہے، اور وہ مقامی، محفوظ عورتوں کی طرح نہیں ہے، تو اس پر معمولی جرم کی رعایت نہیں دی جائے گی ? بعض فقہاء کے ہاں: لونڈی پر نصف حد لاگو ہوتی ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے: ﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ﴾) لیکن تعزیر کا دائرہ اس سے بھی وسیع ہو سکتا ہے — خاص طور پر اگر لونڈی حدود سے کھیلنے لگے ✅ نتیجہ: یہ اثر سنداً صحیح ہے، اور اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک حکیمانہ، سماجی تبصرہ موجود ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ: لونڈی اگر آسانی سے فحاشی میں پڑے، تو اس پر حد لاگو ہو سکتی ہے سیدنا عمر نے یہاں سزا کی شدت کو فطری مشاہدے سے جوڑا اور گناہ کی صورت کو جرم کی سطح پر پرکھا۔
حدیث نمبر: 3271
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ «إِنَّ الْأَمَةَ أَلْقَتْ فَرْوَةَ رَأْسِهَا وَرَاءَ الْجِدَارِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”باندی نے اپنی چادر دیوار کے پیچھے پھینک دی۔“
وضاحت:
وضاحت: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "بیشک لونڈی نے اپنے سر کی کھال (یعنی حیا، عزت یا پردہ) دیوار کے پیچھے پھینک دی ہے"
? تعبیر کا مقصد: → وہ اپنے آپ کو فحاشی و بے حیائی میں ڈال چکی ہے
→ عصمت اور عزت کا لحاظ نہیں رکھا
? تحکیم و فقہی نکات: یہ ایک عمومی اور تنبیہی قول ہے، نہ کہ باقاعدہ فتویٰ یا قضاء
→ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عبرت کے انداز میں کہہ رہے ہیں کہ بعض امائیں فاحشہ ہو جاتی ہیں
فقہی پس منظر: لونڈی پر حد نصف ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے)، لیکن اگر اس کی حالت مستقل فسق و فجور پر ہو، تو تعزیر شدید ہو سکتی ہے
یہ اثر حدیث 2093 کا تکراری ہم معنی بیان ہے، یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة)، مگر معنوی طور پر معروف اور سابقہ صحیح اثر (2093) کا تقویتی شاہد ہے، اور اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے تنبیہ، عبرت اور سماجی تبصرہ ظاہر ہوتا ہے۔
? تعبیر کا مقصد: → وہ اپنے آپ کو فحاشی و بے حیائی میں ڈال چکی ہے
→ عصمت اور عزت کا لحاظ نہیں رکھا
? تحکیم و فقہی نکات: یہ ایک عمومی اور تنبیہی قول ہے، نہ کہ باقاعدہ فتویٰ یا قضاء
→ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عبرت کے انداز میں کہہ رہے ہیں کہ بعض امائیں فاحشہ ہو جاتی ہیں
فقہی پس منظر: لونڈی پر حد نصف ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے)، لیکن اگر اس کی حالت مستقل فسق و فجور پر ہو، تو تعزیر شدید ہو سکتی ہے
یہ اثر حدیث 2093 کا تکراری ہم معنی بیان ہے، یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة)، مگر معنوی طور پر معروف اور سابقہ صحیح اثر (2093) کا تقویتی شاہد ہے، اور اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے تنبیہ، عبرت اور سماجی تبصرہ ظاہر ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 3272
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْأَمَةِ كَيْفَ تُصَلِّي؟ قَالَ: «تُصَلِّي فِي هَيْئَتِهَا الَّتِي تَخْرُجُ فِيهَا إِلَى السُّوقِ»
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باندی اسی حالت میں نماز پڑھے جس حالت میں وہ بازار جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 3273
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ لَا يَدَعُ أَمَةً تَقَنَّعُ فِي خِلَافَتِهِ، وَقَالَ: «إِنَّمَا ذَلِكَ لِلْحَرَائِرِ لِكَيْلَا يُؤْذَيْنَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلافت کے دور میں کسی باندی کو نقاب کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: ”پردہ آزاد عورتوں کے لیے ہے تاکہ انہیں تکلیف نہ دی جائے۔“
حدیث نمبر: 3274
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: الْأَمَةُ الَّتِي قَدْ حَاضَتْ تَخْرُجُ فِي إِزَارٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قُلْتُ: كَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «كَانَ بِالنَّاسِ إِذْ ذَاكَ حَاجَةٌ» فَقُلْتُ: قَدْ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «دَعْنِي مِنْكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا حیض والی باندی ازار پہن کر نکل سکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور مزید کہا: ”اس وقت لوگوں کو ضرورت تھی، اب اللہ نے وسعت دی ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: (1) امَہ (باندی) اور خروج فی الإزار: حائضہ امَہ کو کپڑے میں لپیٹ کر باہر جانے کی اجازت یعنی وہ عبادت (نماز/طواف) تو نہیں کر سکتی، لیکن حج یا مناسک میں موجودگی یا خدمت وغیرہ کے لیے نکل سکتی ہے (2) "کان بالناس إذ ذاك حاجة": یعنی پہلے لوگ غربت، قلتِ لباس اور خدمت کی ضرورت کے باعث حائضہ اماء کو بھی باہر نکالتے تھے اس میں سماجی ضرورت اور عملی رعایت کا پہلو ظاہر ہوتا ہے (3) مجاہد کا اعتراض اور ابن عمر کا ردّ عمل: مجاہد نے کہا: "اب تو ہمیں وسعت حاصل ہے" → یعنی وہ اس عمل کو ماضی تک محدود سمجھتے تھے ابن عمر نے فرمایا: "دعني منك" → مطلب: یہ سنت و عمل سابق ہے، تمہاری عقلی قیاس آرائی سے اس کا بدل نہ نکالو
حدیث نمبر: 3275
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «تُصَلِّي أُمُّ الْوَلَدِ بِغَيْرِ قِنَاعٍ، وَإِنْ كَانَتْ بِنْتَ سِتِّينَ سَنَةً»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ام ولد بغیر نقاب کے نماز پڑھے اگرچہ ساٹھ سال کی ہو۔“
حدیث نمبر: 3276
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، نا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ «أَنَّهُ كَانَ يُحِبُّ لِلْأَمَةِ إِذَا عَهِدَهَا سَيِّدُهَا أَنْ تُصَلِّيَ مُجْتَمِعَةً»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ ام ولد کو نماز باجماعت پڑھنے کی رغبت دلاتے تھے۔