حدیث نمبر: 3251
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ امْرَأَةً وَلَدَتْ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَأُتِيَ بِهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَمَّ بِرَجْمِهَا، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: لَيْسَ ذَاكَ لَكَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: {وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا} [الأحقاف: 15]، فَقَدْ يَكُونُ فِي الْبَطْنِ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، وَالرَّضَاعُ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ شَهْرًا، فَذَلِكَ تَمَامُ مَا قَالَ اللَّهُ: ثَلَاثُونَ شَهْرًا، فَخَلَّى عَنْهَا عُمَرُ
مظاہر امیر خان
ایک عورت نے چھ ماہ میں بچہ جنا، عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کرنے کا ارادہ کیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آیت سے استدلال کر کے اسے بچا لیا کہ حمل اور دودھ پلانے کا مجموعہ تیس مہینے ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 3252
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ قَائِدِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أُتِيَ عُثْمَانُ فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ فِي سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَدْنُونِي مِنْهُ فَأَدْنَوْهُ، فَقَالَ: إِنَّهَا تُخَاصِمَكَ بِكِتَابِ اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ} [البقرة: 233]، وَيَقُولُ فِي آيَةٍ أُخْرَى: {وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا} [الأحقاف: 15] فَرَدَّهَا عُثْمَانُ وَخَلَّى سَبِيلَهَا "
مظاہر امیر خان
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس چھ ماہ میں بچہ جنے والی عورت کو لایا گیا، انہوں نے رجم کا حکم دیا، لیکن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کتاب اللہ سے استدلال کر کے اسے بچا لیا۔
حدیث نمبر: 3253
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: نا أَشْيَاخُنَا أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَغَابَ عَنِ امْرَأَتِهِ سَنَتَيْنِ، فَجَاءَ وَهِيَ حُبْلَى فَرَفَعَهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ: «إِنْ يَكُ عَلَيْهَا سَبِيلٌ، فَلَا سَبِيلَ لَكَ عَلَى مَا فِي بَطْنِهَا»، فَحَبَسَهَا عُمَرُ حَتَّى وَلَدَتْ فَوَضَعَتْ غُلَامًا لَهُ ثِنْيَتَانِ، فَلَمَّا رَآهُ الرَّجُلُ قَالَ: ابْنِي ابْنِي، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ، فَقَالَ: «عَجَزَتِ النِّسَاءُ أَنْ تَلِدَ مِثْلَ مُعَاذٍ، لَوْلَا مُعَاذٌ هَلَكَ عُمَرُ»
مظاہر امیر خان
ایک مرد دو سال غائب رہا، جب واپس آیا تو اس کی بیوی حاملہ تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کا حکم دیا، مگر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے دلیل دی کہ حمل والی پر حد نہیں لگ سکتی، اور بچہ پیدا ہونے پر وہ باپ نے اپنا بچہ مان لیا۔
حدیث نمبر: 3254
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ جَمِيلَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا تَزِيدُ الْمَرْأَةُ فِي الْحَمْلِ عَلَى سَنَتَيْنِ، وَلَا قَدْرِ مَا يَتَحَوَّلُ ظِلُّ عُودِ هَذَا الْمِغْزَلِ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”عورت کا حمل دو سال سے زیادہ نہیں ہو سکتا، جتنا ایک تکلے کے سائے کا حرکت کرنا ہو اتنا بھی اضافہ نہیں ہوتا۔“
وضاحت:
وضاحت: اثر سنداً ضعیف ہے، مگر معنوی اور محتوی اعتبار سے معروف اور مؤید بالاجماع ہے
حدیث نمبر: 3255
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِمَجْنُونَةٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَمُرَّ بِهَا عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتْبَعُهَا الصِّبْيَانُ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالُوا: مَجْنُونَةٌ فَجَرَتْ، فَأَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَمَا أَنْتُمْ، لَا تَعْجَلُوا، فَأَتَى عُمَرَ، فَقَالَ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَلَمَ رُفِعَ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَالْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرُؤَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يُدْرِكَ " فَقَالَ عُمَرُ: كَذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِعُمَرَ: «فَرُدَّهَا، وَخَلِّ سَبِيلَهَا»
مظاہر امیر خان
ایک دیوانی عورت فاحشہ ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رجم کا حکم دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پاگل پر حد نہیں ہے۔“ لہٰذا اسے چھوڑ دیا گیا۔
وضاحت:
وضاحت: یہ روایت اسلامی فوجداری قانون کا بنیادی اصول مہیا کرتی ہے: «لا جَرمَ بلا عقل» — جرم وہی معتبر ہے جو عقل اور قصد کے ساتھ سرزد ہو
عصرِ حاضر میں نفسیاتی مریضوں یا ذہنی طور پر معذور افراد کے لیے عدالتی تحفظ کی بنیاد
✅ نتیجہ: یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی و قانونی اصول کا اعلیٰ نمونہ ہے
اس میں حدود کے نفاذ میں عقل کی شرط، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا رجوع نہایت واضح ہے۔
عصرِ حاضر میں نفسیاتی مریضوں یا ذہنی طور پر معذور افراد کے لیے عدالتی تحفظ کی بنیاد
✅ نتیجہ: یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی و قانونی اصول کا اعلیٰ نمونہ ہے
اس میں حدود کے نفاذ میں عقل کی شرط، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا رجوع نہایت واضح ہے۔
حدیث نمبر: 3256
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ أَرْبَعَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُكْشَفَ عَنْهُ، وَعَنِ الْكَبِيرِ الَّذِي لَا يَعْقِلُ "
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”چار پر قلم نہیں: سونے والے، نابالغ بچے، دیوانے اور بوڑھے جو عقل کھو بیٹھے ہوں۔“
حدیث نمبر: 3257
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا الْعَوَّامُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِامْرَأَةٍ مُصَابَةٍ قَدْ فَجَرَتْ، فَهَمَّ أَنْ يَضْرِبَهَا فَقَالَ عَلِيٌّ: لَيْسَ ذَاكَ لَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ، عَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُكْشَفَ عَنْهُ» فَخَلَّى عَنْهَا عُمَرُ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جو دیوانی تھی اور اس سے بدکاری ہو گئی تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے استدلال کر کے اسے حد سے بچا لیا۔
وضاحت:
وضاحت: یہ روایت اسلامی فوجداری قانون کا بنیادی اصول مہیا کرتی ہے: «لا جَرمَ بلا عقل» — جرم وہی معتبر ہے جو عقل اور قصد کے ساتھ سرزد ہو
عصرِ حاضر میں نفسیاتی مریضوں یا ذہنی طور پر معذور افراد کے لیے عدالتی تحفظ کی بنیاد
✅ نتیجہ: یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی و قانونی اصول کا اعلیٰ نمونہ ہے
اس میں حدود کے نفاذ میں عقل کی شرط، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا رجوع نہایت واضح ہے۔
عصرِ حاضر میں نفسیاتی مریضوں یا ذہنی طور پر معذور افراد کے لیے عدالتی تحفظ کی بنیاد
✅ نتیجہ: یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی و قانونی اصول کا اعلیٰ نمونہ ہے
اس میں حدود کے نفاذ میں عقل کی شرط، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا رجوع نہایت واضح ہے۔
حدیث نمبر: 3258
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، خَالِدٌ عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَلِيٍّ، بِنَحْوِ ذَلِكَ.
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
وضاحت:
وضاحت: انظر حدیث ثابق، یہ اثر حسن الاسناد ہے، اور حدیث 2080 کا مؤید و مختصر شاہد ہے
اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے رفعِ قلم والا اصول دوبارہ ذکر کیا گیا ہے
جو شریعت کے اصولِ عدل و رحمت کا مستقل قاعدہ ہے
اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے رفعِ قلم والا اصول دوبارہ ذکر کیا گیا ہے
جو شریعت کے اصولِ عدل و رحمت کا مستقل قاعدہ ہے
حدیث نمبر: 3259
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، بِنَحْوِ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر اور علی رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح روایت ہے۔
وضاحت:
وضاحت: یہ روایت اگرچہ مرسل ہے، مگر: متعدد صحابہ سے اس مضمون کا آنا (عمر، علی، ابن عباس، عائشہ وغیرہم)
مرفوع حدیث کی موجودگی (مثلاً: صحیح ابو داود، نسائی، احمد میں "رُفِعَ القلم..." مرفوعاً موجود ہے)
اور فقہاء و اصولیین کا اس قاعدے کو اجماعی اصول کے طور پر تسلیم کرنا
→ ان سب عوامل کی وجہ سے یہ اثر بھی قابلِ قبول، مؤید، اور فقہی استدلال کے لیے قوی ہے۔
مرفوع حدیث کی موجودگی (مثلاً: صحیح ابو داود، نسائی، احمد میں "رُفِعَ القلم..." مرفوعاً موجود ہے)
اور فقہاء و اصولیین کا اس قاعدے کو اجماعی اصول کے طور پر تسلیم کرنا
→ ان سب عوامل کی وجہ سے یہ اثر بھی قابلِ قبول، مؤید، اور فقہی استدلال کے لیے قوی ہے۔
حدیث نمبر: 3260
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنِّي زَنَيْتُ فَرَدَّدَهَا حَتَّى أَقَرَّتْ أَوْ شَهِدَتْ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: «سَلْهَا مَا زِنَاهَا فَلَعَلَّ لَهَا عُذْرًا؟» فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي خَرَجْتُ فِي إِبِلِ أَهْلِي، وَلَنَا خَلِيطٌ، فَخَرَجَ فِي إِبِلِهِ فَحَمَلْتُ مَعِي مَاءً، وَلَمْ يَكُنْ فِي إِبِلِي لَبَنٌ، وَحَمَلَ خَلِيطِي مَاءً، وَمَعَهُ فِي إِبِلِهِ لَبَنٌ، فَنَفِدَ مَائِي فَاسْتَسْقَيْتُهُ، فَأَبَى أَنْ يَسْقِيَنِي حَتَّى أُمْكِنَهُ مِنْ نَفْسِي، فَأَبَيْتُ، فَلَمَّا كَادَتْ نَفْسِي تَخْرُجُ أَمْكَنْتُهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ: " اللَّهُ أَكْبَرُ، أَرَى لَهَا عُذْرًا {فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ} [البقرة: 173] " فَخَلَّى سَبِيلَهَا
مظاہر امیر خان
ایک عورت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس زنا کا اقرار کرنے آئی، آپ نے اسے کئی بار لوٹایا، جب اس نے چار بار گواہی دی تو رجم کا حکم دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس سے وجہ معلوم کرو شاید کوئی عذر ہو۔“ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ پیاس کی شدت سے مجبور ہو کر گناہ پر آمادہ ہوئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ اکبر، اس کا عذر موجود ہے، اور اس پر کوئی گناہ نہیں۔“ چنانچہ اسے چھوڑ دیا گیا۔
وضاحت:
وضاحت: ✅ 1. حدود کے نفاذ میں ”تحقیقِ سبب“ واجب ہے
→ جب عورت نے اقرار کیا، تو بظاہر حد واجب ہو گئی
→ لیکن علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت نے ظاہر کیا کہ اقرار کے پیچھے اضطرار تھا
✅ 2. قرآن سے استدلال: اضطرار کے وقت حرام بھی جائز ہو سکتا ہے
→ «فمن اضطر...» کی آیت صرف کھانے پینے پر محدود نہیں، → بلکہ عمومی طور پر جان بچانے والے افعال پر بھی دلالت کرتی ہے
✅ 3. شریعت میں انصاف، فہم، نیت اور حالات کو اہمیت حاصل ہے
ظاہری اقرار کافی نہیں، معنوی حالات و اسباب کی تحقیق ضروری ہے
حدود شک سے ساقط ہوتی ہیں، اور اضطرار سببِ رخصت ہے
✅ نتیجہ: یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی اصول، قرآنی استدلال اور عدالتی بصیرت کا بلند ترین نمونہ ہے
اس سے درج ذیل اصول اخذ ہوتے ہیں: فقہی قاعدہ: فقہی قاعدہ | وضاحت، الحدود تدرأ بالشبهات | شک یا مجبوری ہو تو حد ساقط، الضرورة تبيح المحظورات | جان بچانے کے لیے ممنوع افعال کی اجازت ہو سکتی ہے، الاعتراف لا يكفي إذا قام عذر قهري | اقرار کے باوجود اگر مجبوری ہو تو حد نہیں
→ جب عورت نے اقرار کیا، تو بظاہر حد واجب ہو گئی
→ لیکن علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت نے ظاہر کیا کہ اقرار کے پیچھے اضطرار تھا
✅ 2. قرآن سے استدلال: اضطرار کے وقت حرام بھی جائز ہو سکتا ہے
→ «فمن اضطر...» کی آیت صرف کھانے پینے پر محدود نہیں، → بلکہ عمومی طور پر جان بچانے والے افعال پر بھی دلالت کرتی ہے
✅ 3. شریعت میں انصاف، فہم، نیت اور حالات کو اہمیت حاصل ہے
ظاہری اقرار کافی نہیں، معنوی حالات و اسباب کی تحقیق ضروری ہے
حدود شک سے ساقط ہوتی ہیں، اور اضطرار سببِ رخصت ہے
✅ نتیجہ: یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی اصول، قرآنی استدلال اور عدالتی بصیرت کا بلند ترین نمونہ ہے
اس سے درج ذیل اصول اخذ ہوتے ہیں: فقہی قاعدہ: فقہی قاعدہ | وضاحت، الحدود تدرأ بالشبهات | شک یا مجبوری ہو تو حد ساقط، الضرورة تبيح المحظورات | جان بچانے کے لیے ممنوع افعال کی اجازت ہو سکتی ہے، الاعتراف لا يكفي إذا قام عذر قهري | اقرار کے باوجود اگر مجبوری ہو تو حد نہیں
حدیث نمبر: 3261
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَسَرَّى الْعَبْدُ إِذَا أَذِنَ لَهُ مَوْلَاهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غلام کو مالک کی اجازت سے باندی سے تعلق قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
وضاحت:
حجاج بن أرطاة:، صدوق، مدلس، کثیر الخطأ
مسئلہ: کیا غلام تسری کر سکتا ہے؟
اصل اصول: تسری (یعنی باندی سے تعلق) مالک کے لیے جائز ہے، غلام چونکہ خود مالک نہیں ہوتا، اس لیے: باندی اس کے لیے "محل وطی" نہیں، الا یہ کہ مالک اجازت دے دے
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول اجتہادی فتویٰ ہے کہ: "اگر آقا اجازت دے دے تو غلام بھی تسری کر سکتا ہے"
فقہاء احناف و مالکیہ کے ہاں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے: فقہی مسلک ◄ موقف
احناف: غلام تسری نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ مالک نہیں ہے
بعض مالکیہ و اہل الظاہر اجازت کے ساتھ جائز سمجھتے ہیں، جیسا کہ ابن عمر کا قول
✅ نتیجہ: یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة)، لیکن مضمون کے لحاظ سے ایک معتبر فقہی قول کو ظاہر کرتا ہے
جو ابن عمر رضی اللہ عنہما جیسے فقیہ صحابی کا فتویٰ ہے
مسئلہ: کیا غلام تسری کر سکتا ہے؟
اصل اصول: تسری (یعنی باندی سے تعلق) مالک کے لیے جائز ہے، غلام چونکہ خود مالک نہیں ہوتا، اس لیے: باندی اس کے لیے "محل وطی" نہیں، الا یہ کہ مالک اجازت دے دے
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول اجتہادی فتویٰ ہے کہ: "اگر آقا اجازت دے دے تو غلام بھی تسری کر سکتا ہے"
فقہاء احناف و مالکیہ کے ہاں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے: فقہی مسلک ◄ موقف
احناف: غلام تسری نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ مالک نہیں ہے
بعض مالکیہ و اہل الظاہر اجازت کے ساتھ جائز سمجھتے ہیں، جیسا کہ ابن عمر کا قول
✅ نتیجہ: یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة)، لیکن مضمون کے لحاظ سے ایک معتبر فقہی قول کو ظاہر کرتا ہے
جو ابن عمر رضی اللہ عنہما جیسے فقیہ صحابی کا فتویٰ ہے
حدیث نمبر: 3262
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ بھی غلام کے لیے باندی سے تعلق جائز سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3263
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا الْحَجَّاجُ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّهُ أَذِنَ لِغُلَامٍ لَهُ أَنْ يَتَسَرَّى، فَاشْتَرَى ثَلَاثَ جِوَارٍ ثَمَنُ أَلْفَيْنِ أَلْفَيْنِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو تین بانڈیاں خرید کر دیں کہ وہ ان سے تعلق قائم کرے۔
وضاحت:
حجاج بن أرطاة کی وجہ سے سند ضعیف ہے،، لیکن مضمون سابقہ اثر (2084) سے موافق ہے،، لہٰذا یہ اثر "قابلِ تقویت ضعیف" ہے، اور فقہی استدلال میں شاہد کا درجہ رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 3264
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ لِغُلَامٍ لَهُ: «لَكَ فُلَانَةُ - لِأَمَةٍ لَهُ - فَاتَّخِذْهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے کہا: ”یہ باندی تمہارے لیے ہے، اسے اپنی زوجہ بنا لو۔“
وضاحت:
ابو الزبیر مدلس ہے، اور یہاں "عن" کے ساتھ روایت کر رہا ہے اس لیے یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب احتمال تدلیس) مگر چونکہ یہ مضمون سابقہ دو آثار (2084، 2086) کے مطابق ہے، اس لیے اس کو مؤید کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 3265
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا زَكَرِيَّا بْنُ يُونُسَ، شَكَّ الصَّائِغُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ «أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا أَنْ يَتَسَرَّى الْعَبْدُ بِإِذْنِ مَوْلَاهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ غلام کے باندی سے تعلق کو مالک کی اجازت سے جائز سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3266
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غُلَامًا لَهُ اشْتَرَى جَارِيَتَيْنِ، فَكَانَ يُصِيبُ مِنْهُمَا، وَعَلِمَ بِذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ فَأَقَرَّهُ «
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نے دو بانڈیاں خریدیں اور ان سے تعلق قائم کیا، جب ابن عمر رضی اللہ عنہما کو علم ہوا تو اسے برقرار رکھا۔
وضاحت:
وضاحت: یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور تسری کے مسئلے میں عملی تعاملِ صحابی کا مضبوط ثبوت ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے: نہ غلام کے باندی خریدنے پر اعتراض کیا نہ ان سے ہمبستری پر کوئی حد یا ممانعت قائم کی → یہ جوازِ تسری بالغلام بالاذن کا معتبر اثر ہے
حدیث نمبر: 3267
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ» يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ تَزْوِيجًا "
مظاہر امیر خان
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ غلام کے لیے نکاح کو پسندیدہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3268
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بھی یہی کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 3269
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «يُكْرَهُ لِلْعَبْدِ أَنْ يَتَسَرَّى»
مظاہر امیر خان
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام کا باندی سے تعلق رکھنا مکروہ ہے۔“