کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: اُس مرد کا بیان جس کی باندی مسلمان نہ ہو، کیا اس کے لیے اس سے جماع کرنا جائز ہے؟
حدیث نمبر: 3219
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يَطَأُ أَمَتَهُ وَهِيَ مَجُوسِيَّةٌ، وَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَكَانَ أَشَدَّهُمَا قَوْلًا، وَقَالَ: «إِنْ فَعَلُوا فَمَا هُمْ بِخَيْرٍ مِنْهُنَّ»
مظاہر امیر خان
موسیٰ بن ابو عائشہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے مرہ ہمدانی سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو اپنی مجوسیہ لونڈی سے ہمبستری کرے، اور میں نے سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا، تو وہ دونوں سخت جواب دینے والوں میں سے تھے۔“ سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ ان لونڈیوں سے بہتر نہیں رہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3219
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2040، 2041، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7773، 12810»
حدیث نمبر: 3220
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
حضرت مرہ ہمدانی اور حضرت سعید بن جبیر رحمہما اللہ سے یہی بات مروی ہے کہ اگر کوئی اپنی مجوسیہ لونڈی سے ہمبستری کرے تو وہ ان جیسا ہی ہے، کوئی فضیلت باقی نہیں رہتی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3220
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2042، 2043، 2817، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12754، 12755، 12756، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16564، 33323»
حدیث نمبر: 3221
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا سُبِيَتِ الْيَهُودِيَّاتُ وَالنَّصْرَانِيَّاتُ يُجْبَرْنَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَإِذَا أَسْلَمْنَ وُطِئْنَ وَاسْتُخْدِمْنَ، وَإِنْ أَبَيْنَ وُطِئْنَ وَاسْتُخْدِمْنَ، وَإِذَا سُبِيَتِ الْمَجُوسِيَّاتُ وَعَبْدَةُ الْأَوْثَانِ أُجْبِرْنَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَسْلَمْنَ وُطِئْنَ وَاسْتُخْدِمْنَ، وَإِنْ لَمْ يُسْلِمْنَ اسْتُخْدِمْنَ وَلَمْ يُوطَأْنَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب یہودیہ اور نصرانیہ عورتیں قید میں آئیں تو ان پر اسلام قبول کرنا لازم کرایا جائے، اگر وہ اسلام لے آئیں تو ان سے مباشرت اور خدمت لی جائے، اگر انکار کریں تب بھی خدمت لی جائے گی مگر مباشرت نہ کی جائے گی، اور جب مجوسیہ اور بت پرست عورتیں قید میں آئیں تو ان پر بھی اسلام لازم کیا جائے، اگر وہ اسلام قبول کریں تو ان سے مباشرت اور خدمت دونوں لی جائیں گی، اور اگر اسلام قبول نہ کریں تو ان سے صرف خدمت لی جائے گی، مباشرت نہیں ہو گی۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3221
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2044، 2816، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16569، 16573، 33330، 33332»
حدیث نمبر: 3222
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ وَطِئَ جَارِيَةً لَهُ بَعْدَ مَا أَنْكَرَ وَلَدَهَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک لونڈی سے مباشرت کی جب کہ پہلے اپنی اولاد کا انکار کر چکے تھے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الطلاق / حدیث: 3222
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «إسناده صحیح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2045، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12812، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16591»