کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اُس عورت کا بیان جسے تین طلاقیں دی گئیں، پھر اس نے دوسرے شوہر سے نکاح کیا اور وہ اس سے ہمبستری سے پہلے طلاق دے دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے لیے واپس جا سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 3161
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الرُّمَيْصَاءَ أَوِ الرُّمَيْضَاءَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو زَوْجَهَا، وَتَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ زَوْجُهَا فَقَالَ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، إِنَّهْ يَصِلُ إِلَيْهَا، وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ ذَاكَ لَهَا حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ رمیصاء یا رمیدہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور شوہر کی شکایت کی کہ وہ ان کے پاس نہیں آتا، تھوڑی دیر میں شوہر بھی آ گیا اور کہا کہ وہ جھوٹی ہے، وہ چاہتی ہے کہ پہلے شوہر کے پاس واپس جائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے جائزہ نہیں ہے جب تک کہ دوسرا شوہر اس سے تعلق نہ قائم کرے۔“
حدیث نمبر: 3162
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي وَبَتَّ طَلَاقِي، فَتَزَوَّجَنِي ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ» فَنَادَى خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ بِالْبَابِ: أَلَا تَسْمَعُ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا تَجْهَرُ هَذِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رعافہ القرظی کی بیوی نبیہ کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ائیں اور عرض کیا: ”میں رفاعہ کے نکاح میں تھی، اس نے مجھے تین طلاقیں دے کر علیحدہ کر دیا، پھر ابن زبئر سے نکاح کیا، لیکن اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”کیا تم رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو؟ نہیں، جب تک دوسرا شوہر تم سے تعلق نہ قائم کرے اور تم اس سے۔“
حدیث نمبر: 3163
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَتْ رَجُلًا بَعْدَهُ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، قَالَ عَلِيٌّ: «لَا تَرْجِعُ إِلَى الْأَوَّلِ حَتَّى يَقْرَبَهَا الْآخَرُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے اور وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے، اگر دوسرا شوہر بیوی سے تعلق قائم کرنے سے پہلے طلاق دے دے تو پہلے شوہر کے پاس واپسی جائز نہیں جب تک دوسرا شوہر اس سے تعلق نہ قائم کرے۔“
حدیث نمبر: 3164
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا ذَوَّادُ بْنُ عُلْبَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا، وَسَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ بَعْدَهُ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَأَخْرَجَ ذِرَاعَهُ، وَبِهَا رَقَطٌ قَالَ: «لَا، حَتَّى يَهُزَّهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا، آپ نے اپنے بازو سے اشارہ کر کے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ دوسرا شوہر اس کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 3165
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جب تک وہ اس سے تعلق قائم نہ کرے اور وہ اس سے۔“
حدیث نمبر: 3166
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: " أَمَّا النَّاسُ فَيَقُولُونَ حَتَّى يُجَامِعَهَا، وَأَمَّا أَنَا فَإِنِّي أَقُولُ: إِذَا تَزَوَّجَهَا تَزْوِيجًا صَحِيحًا لَا يُرِيدُ بِذَلِكَ إِحْلَالًا لَهَا، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا الْأَوَّلُ "
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”عام لوگ تو کہتے ہیں کہ جب دوسرا شوہر ازدواجی تعلق قائم کرے، لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر دوسرا نکاح صحیح طریقے سے، بغیر کسی حلالہ کی نیت کے کیا جائے تو پہلے شوہر کے لیے نکاح کرنا جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 3167
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، أنا هُشَيْمٌ، أنا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّهُ قَالَ: «لَيْسَ لِلْأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا حَتَّى يُجَامِعَهَا الْأَخِيرُ»
مظاہر امیر خان
حضرت مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پہلے شوہر کے لیے نکاح کرنا جائز نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس سے ازدواجی تعلق قائم نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 3168
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا أَبُو شِهَابٍ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَأَصَابَ مِنْهَا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَمَسَّهَا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «لَا، حَتَّى يَمَسَّهَا» فَأَعَادَ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: «لَا حَتَّى يَمَسَّهَا» فَأَعَادَ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: «لَا، حَتَّى يَأْخُذَ بِرِجْلِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں اور ہر چیز کی اجازت دی مگر مباشرت نہ کی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”نہیں، جب تک کہ اس سے تعلق قائم نہ کرے۔“