کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: دو عیسائی میاں بیوی کے بارے میں بیان، جن میں سے ایک مسلمان ہو جائے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ السَّفَّاحِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ كُرْدُوسٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي تَمِيمٍ كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ فَأَسْلَمَتْ، فَقَالَ عُمَرُ: «إِمَّا أَنْ تُسْلِمَ، وَإِمَّا أَنْ نَنْزِعَهَا عَنْكَ» فَقَالَ: لَا تُحَدِّثُ الْعَرَبُ أَنِّي أَسْلَمْتُ لِبُضْعِ امْرَأَةٍ، فَنَزَعَهَا مِنْهُ
مظاہر امیر خان
حضرت داود بن کردوس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک عورت جو مسلمان ہو گئی اور اس کا شوہر عیسائی تھا، اس سے جدا کر دیا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي نَصْرَانِيٍّ تَحْتَهُ نَصْرَانِيَّةٌ، فَأَسْلَمَتْ، قَالَ: " يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، لَا يَمْلِكُ نِسَاءَنَا غَيْرُنَا، نَحْنُ عَلَى النَّاسِ، وَالنَّاسُ لَيْسَ عَلَيْنَا؛ وَذَلِكَ لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ} [التوبة: 33] "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر ایک نصرانی مرد کی بیوی نصرانی عورت مسلمان ہو جائے تو ان کے درمیان جدائی ہو گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ»۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ان دونوں کے درمیان جدائی کر دی جائے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ «تُخَيَّرُ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورت کو اختیار دیا جائے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، أَنَا هُشَيْمٌ، أَنَا مُطَرِّفٌ، وَعُثْمَانُ الْبَتِّيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: « هُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ يُخْرِجْهَا مِنْ دَارِ الْهِجْرَةِ » .
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”شوہر اپنی بیوی کا اس وقت تک زیادہ حق دار ہے جب تک وہ اسے دار ہجرت سے باہر نہ نکالے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، أَنَا هُشَيْمٌ، أَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُمَا قَالَا مِثْلَ ذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، أنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «تَقَرُّ عِنْدَهُ؛ لِأَنَّ لَهُ عَهْدًا» قَالَ سَعِيدٌ: بِئْسَمَا قَالَ
مظاہر امیر خان
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وہ شوہر کے پاس رہے گی کیونکہ اس کا اس سے معاہدہ ہے۔“ پھر سعید کہتے ہیں: ”یہ بات اچھی نہیں کہی گئی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا خَالِدٌ، ثنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، مِثْلَهُ
مظاہر امیر خان
ابراہیم اور حضرت عامر شعبی رحمہما اللہ سے روایت ہے، دونوں نے فرمایا: ”یہی بات کہی۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، أنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، أَنَّ هَانِئَ بْنَ قَبِيصَةَ، أَسْلَمَتِ امْرَأَتُهُ قَبْلَهُ، فَخَشِيَ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، فَلَقِيَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ فَكَلَّمَهُ أَنْ يُكَلِّمَ لَهُ عُمَرَ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: «هُنَيُّ ذَهَبَ الزَّمَانُ الَّذِي عَهِدْتَنَا عَلَيْهِ، وَاللَّهِ لَوْ بَلَغَنِي أَنَّ لِيَ ابْنًا بِالْعِرَاقِ دَرَجَ عَلَى أَهْلِهِ طَرَفًا مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَدَّعِيَهُ إِلَّا فَرَقًا مِنْ عُمَرَ، وَمَا يُكَلَّمُ فِي ذَاتِ اللَّهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہانئ بن قبیصہ کی بیوی اس سے پہلے مسلمان ہو گئی، اسے ڈر تھا کہ کہیں ان دونوں کے درمیان جدائی نہ کر دی جائے، چنانچہ وہ سیدنا ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بات کریں، سیدنا ابو سفیان نے کہا: ”ہانئ، وہ زمانہ گزر گیا جس پر ہم تھے، اللہ کی قسم، اگر مجھے خبر بھی ہو کہ میرا کوئی بیٹا عراق میں ہے جو اہل عراق کے درمیان پروان چڑھ رہا ہے، تو میں عمر کے خوف کے سوا اسے اپنا بیٹا تسلیم کر لیتا، اللہ کے معاملے میں کسی کی سفارش نہیں ہوتی۔“
وضاحت:
وضاحت: حسن بن عمران کی توثیق نہیں ملی۔، اس کے بعد "عن رجل" کا مجہول مبہم راوی ہے، جو سند کو ضعیف بنا دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ " النَّصْرَانِيَّةُ تُسْلِمُ تَحْتَ النَّصْرَانِيِّ؟ قَالَ: «إِنْ أَسْلَمَ زَوْجُهَا وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، نصرانی عورت اگر مسلمان ہو جائے اور اس کا شوہر نصرانی رہے، تو فرمایا: ”اگر وہ عدت کے دوران مسلمان ہو جائے تو وہ اپنی بیوی کا زیادہ حق دار ہے۔“